اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام میں كردوں کی پارٹی کرد یونین کے لیڈر نے بتایا ہے کہ اس شہر کے بیشتر حصے پر مقامی كردوں کا کنٹرول ہو گیا ہے۔
صالح مسلم نے کہا کہ مستقبل قریب میں ہم پورے كوباني شہر کو داعش کے کنٹرول سے آزاد کرا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں عراق کی پيشمرگہ كرد ملیشیا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ شروع میں ترکی، جو دہشت گردوں کو تو شام جانے کی اجازت دے رہا ہے، کرد پيشمرگہ ملیشیا کو اپنی زمین سے كوباني جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا، لیکن عالمی برادری کے دباؤ اور كردوں کے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے پيشمرگہ کو كوباني جانے کی اجازت ملی۔ صالح مسلم نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ كوباني سے ہجرت کرنے والوں کو واپس لانے کا انتظام کیا جائے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران داعش کے دہشت گردوں کو كوباني کے مزاحمت کاروں اور پيشمرگہ ملیشیا نے ہر محاذ پر شکست دی ہے جس کی وجہ سے وہ خود میدان چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169