اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قومي سلامتي اور خارجہ امور کے پارليماني کميشن کے سربراہ علاء الدين بروجردي نے منگل کے روز مغربي ميڈيا ميں آنے والي ان رپورٹوں کو مسترد کر ديا جن کے مطابق ايران کي مذاکراتي ٹيم سنٹري فيوج مشينوں کي تعداد ميں کمي پر تيار ہو گئي ہےـ
انہوں نے کہا کہ گروپ پانچ جمع ايک کے ساتھ مذاکرات ميں اختلاف رائے کا ايک اہم سبب سنٹري فيوج مشينوں کي تعداد ہے، لہذا اگر تعداد کم کنے پرايران تيار ہو گيا ہوتا تو اب تک ايٹمي معاہدہ ہو جاتاـ پارليماني کميشن کے سربراہ نے کہا کہ سنٹري فيوج مشينوں کي تعداد ميں کمي کے تعلق سے مغربي ميڈيا کا پروپيگنڈا ايک سياسي شيطنت ہے اور ہر طرح کي قياس آرائي سے اجتناب کرتے ہوئے نتيجے کا انتظار کيا جانا چاہئےـ
علاء الدين بروجردي نے کہا کہ ايران، امريکا اور يورپي يونين کي خارجہ کي پاليسي کي سربراہ کے درميان سہ فريقي مذاکرات حمتي معاہدے کے سلسلے ميں فيصلہ کن ثابت ہو سکتے ہيں ـ
پارليماني کميشن کے سربراہ نے کہا کہ يورينيم کي افزودگي کے سلسلے ميں ايران کا موقف يہ ہے کہ ملک کي داخلي ضرورتوں کے مطابق سنٹري فيوج مشينوں کي تعداد قائم رہني چاہئےـ
دوسري جانب سينيئر ايٹمي مذاکرات کار عباس عراقچي نے کہا کہ ايران کے وزير خارجہ محمود جواد ظريف، امريکا کے ووير خارجہ جان کيري اور يورپي ينين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ کيتھرين ايشٹن کے درميان آئندہ نو اور دس نومبر کو مسقط ميں مذاکرات ہوں گے جبکہ گروپ پانچ جمع ايک کے ساتھ ايٹمي مذاکرات گيارہ نومبر کو انجام پائيں گےـ
سہ فريقي اجلاس مين خاص طور پر يورينيم کي افزودگي کي سطح اور ايران پر لگائي گئي غير قانوني پابندياں اٹھائے جانے کے بارے ميں گفتگو ہوگي
۔۔۔۔۔۔۔
/169