اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کوباني کے اطراف ميں داعش اور کوباني کا دفاع کرنے والے کرد جانبازوں کے درميان لڑائي ميں درجنوں دہشتگرد مارے گئے ہيں - اس رپورٹ کے مطابق کرد جانبازوں نے داعش کو شہر سے پسپائي اختيار کرنے پر مجبور کرديا ہے اور اب لڑائي شہر سے باہر، اطراف کے علاقوں ميں ہورہي ہے -
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ ترکي کي حکومت کي جانب سے کوباني پر حملہ کرنے والے داعش کے دہشتگردوں کي حمايت کي رپورٹيں مسلسل مل رہي ہيں -
اس کے علاوہ امريکا، سعودي عرب، متحدہ عرب امارات ، قطر ، بحرين اور اردن ، نے دمشق حکومت اور اقوام متحدہ کي اجازت کے بغير، بقول خود داعش کے ٹھکانوں پر فضائي حملے شروع کئے ہيں ليکن اب تک اس بہانے سے ہونے والے تمام فضائي حملوں ميں شام کي فوج، داعش سے جنگ کرنے والے رضاکاروں اور عوام نيز آئل ريفائنريوں سميت شام کي بنيادي شہري تنصيبات کو ہي نشانہ بنايا گيا ہے-
اس کے علاوہ ايک رپورٹ ميں يہ بھي بتايا گيا ہےکہ امريکا نے شام کي حکومت کے خلاف برسر پيکار مسلح دہشتگردوں کي ٹريننگ کا کيمپ اردن سے ترکي ميں منتقل کرديا ہے -









