21 اکتوبر 2014 - 11:11
شیعہ کا وھابی سے قبروں پر جانے کے بارے میں مناظرہ

ایک وھابی شخص نے اس حالت میں کہ اس کی بھنویں تنی ہوئیں تھیں اور شدتِ جذبات سے اس کی آواز بھرّا رھی تھی۔ اُس نے تقریبا چیختے ھوئے کہا: تم لوگ قبروں کی زیارت کرنے کیوں جاتے ھو؟ تمھیں نہیں جانا چاھیے، یہ حرام ھے!کافر ھو جاؤ گے!

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا:  ایک وھابی شخص نے اس حالت میں کہ اس کی بھنویں تنی ہوئیں تھیں اور شدتِ جذبات سے اس کی آواز بھرّا رھی تھی۔ اُس نے تقریبا چیختے ھوئے کہا: تم لوگ قبروں کی زیارت کرنے کیوں جاتے ھو؟ تمھیں نہیں جانا چاھیے، یہ حرام ھے!کافر ھو جاؤ گے!

میں: بُریده اَسلمی نے رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) سے نقل کیا ھے کہ آپ نے فرمایا:

« مجھے اِس بات کی اجازت دی گئی ھے کہ میں اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کیلئے جاؤں! تم بھی قبر کی زیارت کیلئے جا سکتے ھو ! اِس لئے کہ یہ کام تم کو آخرت کی یاد دلائے گا! ». [۱]

وھابی: مجھے یہ بات قبول ھے، تم جاؤ لیکن وھاں رونا نہیں!! ورنہ صاحبِ قبر (مردے) کو عذاب ھوگا۔ مردے پر رونا حرام ھے تم مشرک بن جاؤ گے!

میں: حاکم نیشابوری نے بُریده سے نقل کیا ھے:

«پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم ) نے ایک هزار ملائکه کے ساتھ اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور وھاں میں نے رسول اللہ کو جتنا گریہ کرتا ھوا دیکھا کسی اور دن نہیں دیکھا! » [۲] .

ابوهریره کا بھی کہنا ھے: «پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) نے اپنی والدہ ماجدہ کی قبر کی زیارت کی اور وھاں اتنا روئے کہ وھاں اُن کے ساتھ جو بھی تھا وہ بھی رونے لگا.» [۳]

ترجمہ: محقق علامہ صادق تقوی

.......

/169