اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سرتاج عزیز نے افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں افغانستان میں قومی اتحاد حکومت کی تشکیل کو، کابل اور اسلام آباد کے روابط مستحکم ہونے کے لئے ایک نئے موقع سے تعبیر کیا۔ صدر افغانستان نے بھی کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں نیا دریچہ کھلا ہے اور ہمیں اعتماد کی فضا قائم کرنی چاہئے۔ملاقات کے دوران افغان صدراشرف غنی نے اس بات پرزور دیاکہ یہ تاریخی موقع ہے کہ پاکستان اورافغانستان کے تعلقات کو باہمی مفادپر مبنی پارٹنرشپ میں تبدیل کیا جائے۔ اس امر کے پیش نظر کہ افغانستان کی قومی اتحاد حکومت نے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعاون کے فروغ کو اپنے ایجنڈے میں قرار دیا ہے، اس لئے سرتاج عزیز کا دورۂ کابل، اسلام آباد اور کابل کے درمیان کے درمیان تعلقات میں نیا باب کھلنے کا باعث بنے گا ۔ وہ چیز جس نے دوطرفہ تعلقات پر زيادہ منفی اثر مرتب کیا ہے سکورٹی کا مسئلہ ہے کہ جس میں دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحد پر سکورٹی، طالبان کے ساتھ مقابلہ، اور اسی طرح اس گروہ کے ساتھ مذاکرات کا مسئلہ، اہم ہے۔ افغانستان، پاکستان پر مشترکہ سرحدوں کو کنٹرول نہ کرنے کا الزام عائد کرتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ افغانستان کے دیہی علاقوں پر پاکستان کی سرزمین سے فائرنگ کے واقعات، کابل حکومت کو کمزور کرنے کے لئے کئے جارہے ہيں ۔ افغان حکومت، پاکستان پر گروہ طالبان کی حمایت جاری رہنے نیز اس گروہ کے ساتھ حکومت افغانستان کے مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام بھی عائد کرتی ہے۔ حکومت پاکستان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنی پالیسی، ہمیشہ افغانستان میں امن کے عمل کی حمایت میں اپنائی ہے اور حکومت افغانستان کے امن کے عمل کوآگے بڑھانے میں مدد کے لئے، اسلام آباد کی کوششوں پر تاکید کی ہے۔ اس درمیان حکومت پاکستان کا بھی خیال ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر تحریک طالبان کے بعض دھڑوں کا وجود، حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے ہے اور پاکستان کی حکومت کا مطالبہ ہے کہ افغان فوج ان گروہوں سے مقابلہ کرے۔اس سے قطع نظر کہ افغانستان اور پاکستان کے الزامات ایک دوسرے کے خلاف صحیح ہیں یا نہیں ، قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ ان الزامات کے سبب، دونوں ملکوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہيں اور یہ ممالک سخت حالات سے دوچار ہیں۔ اس لحاظ سے سیاسی مبصرین کے نقطۂ نگاہ سے کابل اور اسلام آباد کی حکومتیں، اعتماد کی بحالی اور سکورٹی تعاون کے ذریعے نہ صرف سکورٹی کے مسائل کے حل میں مدد کرسکتی ہیں، بلکہ دوطرفہ تعاون کے فروغ اور اس سلسلے ميں موجودہ گنجائشوں سےاستفادے کے لئے بھی حالات سازگار بنا سکتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقے کے ملکوں کو درپیش سکورٹی کے مشترکہ خطرات کے پیشں نظر ان کے درمیان سکورٹی اور انٹلی جنس کے شعبوں میں تعاون ایک ناقابل انکار ضرورت ہے۔ لیکن اس سلسلے میں حکومت پاکستان کے وعدوں کے باوجود اس ملک کی مشترکہ سرحد پر اور اس ملک کےاندر ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف حکومت کے ٹھوس موقف اختیار نہ کئے جانے کے پیش نظر، شکوک وشبھات جنم لے رہے ہیں۔ اسی سبب سے سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ، پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات میں حکومت اسلام آباد کی پالیسیوں میں اعتماد پیدا ہونے سے، اقتصادی شعبے میں تعاون کو ماضی سے زیادہ فروغ حاصل ہوگا۔وزیر اعظم پاکستان کے مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات ميں صدر افغانستان کی جانب سے ، علاقے میں امن کے قیام کے لئے اسلام آباد سے عملی قدم اٹھائے جانے پر تاکید، اسی سلسلے میں قابل غور ہے۔
.......
/169