14 اکتوبر 2014 - 07:57
ہندوستان میں ’’ہدہد‘‘ طوفان نے تین لاکھ افراد بے گھر کر دئے

ہندوستان میں آنے والے سمندری طوفان ’’ہدہد‘‘ میں مرنے والوں کی تعداد چوبیس افراد سے تجاوز کرچکی ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان ’’ہدہد‘‘ہندوستان کے مشرقی ساحلوں سے ٹکرا گیا جس سے شدید نقصان ہوا ہے اور تقریباً تین لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ اب تک 24 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ درجنوں لاپتہ ہیں۔ طوفان کے نتیجے میں اتوار کو ہندوستان کے مشرقی علاقوں میں تیز ہوائوں کےساتھ موسلا دھار بارش ہوتی رہی جس کے نتیجے سیکٹروں درخت اور کھمبے اکھڑ گئے، متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ لاکھوں افراد کو کو محفوظ مقامات پر پہنچادیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ تباہی ریاست آندھرا پردیش کے پورٹ سٹی وشاکا پٹنم میں ہوئی۔ اس دوران ریاست آندھراپردیش اور اڑیسہ میں سیکڑوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور بجلی کے تار زمین پر آگرے جس سے بجلی متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔۔
طوفان سے قبل ہندوستان بھر میں نیوی اور کوسٹ گارڈ کو ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا تھا اور لوگوں کو سائیکلون سے بچاؤ کے لیے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔طوفان سے متاثرہ علاقوں میں کچھ فلائٹس کو کینسل کردیا گیا ہے جبکہ ریلوے اور بس کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور اسے وقتی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ہندوستان کے مشرقی ساحل اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں اپریل سے نومبر کے دوران بدترین طوفان معمول ہیں تاہم اس کے باوجود حکام کی جانب سے کسی قسم کے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے سبب ہر سال بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ان خطے میں زیادہ تر مچھیرے اور چھوٹے کسان بستے جن کے گھر کچے اور لکڑی کے بنے ہوتے ہیں اور طوفان آنے کی صورت میں کسی قسم کا بچاؤ ممکن نہیں۔
آندھراپردیش کے شمال میں واقع ریاست اڑیسہ میں 1999 میں آنے والے طوفان کے نتیجے میں کم از کم آٹھ ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہندوستانی حکام اس جیسی صورتحال سے بچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲