11 اکتوبر 2014 - 06:20
امریکی قیادت میں داعش کے خلاف اتحاد سے متعلق انکشافات

ایسے حالات میں کہ جب امریکہ، دہشت گرد گروہ داعش کے بہانے عراق پر ہوائی حملے کررہا ہے عراق کے بعض سیاسی گروہوں نے اس کاروائی سے متعلق حقائق کا انکشاف کیا ہے۔ ایسے انکشافات کہ جو داعش کے خلاف امریکی زیر قیادت اتحاد کی حققیقی ماہیت کو بیان کررہے ہیں

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایسے حالات میں کہ جب امریکہ، دہشت گرد گروہ داعش کے بہانے عراق پر ہوائی حملے کررہا ہے عراق کے بعض سیاسی گروہوں نے اس کاروائی سے متعلق حقائق کا انکشاف کیا ہے۔ ایسے انکشافات کہ جو داعش کے خلاف امریکی زیر قیادت اتحاد کی حققیقی ماہیت کو بیان کررہے ہیں ۔مقتدی صدر کی قیادت میں صدر گروپ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ امریکی قیادت میں داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد نے اب تک داعش کے کسی بھی ٹھکانے کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔ عراق میں گروہ صدر سے وابستہ الاحرار پارلیمانی دھڑے کے نمائندے جمعہ دیوان نے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں امریکی اتحاد کی تشکیل کے بعد سے عراق کی صورتحال مزید ابتر ہوچکی ہے کیوں کہ یہ اتحاد نہ صرف داعش کے خلاف جہاد میں سنجیدہ نہیں ہے بلکہ عراق کے بعض شہروں میں اس دہشت گرد گروہ کی پیشقدمی کے لئے حالات بھی فراہم کئے ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ کے اس نمائندے نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد ، بجائے اس کے کہ داعش کے اہم ٹھکانوں ، ہتھیاروں کے گودام اور ان کے جنگي سازو سامان پر بمباری کرے ، ایسےغیر اہم مقامات کو نشانہ بنارہا ہے کہ جس کا داعش سے دور کا بھی واسطہ نہيں ہے ۔اس بین الاقوامی اتحاد کے بیشتر حملوں میں، کہ جو حالیہ چند دنوں میں داعش سے مقابلے کے بہانے عراق پر انجام پائے ہیں ، عام شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ عراق کے خبری ذرائع نےبھی اعلان کیا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد کی فوجی کاروائيوں کے نتیجے میں گذشتہ روز صوبۂ صلاح الدین ميں چالیس سے زیادہ عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔قابل غور نکتہ یہ ہے کہ امریکی حکام بدستور یہی دعوی کر رہے ہیں کہ انہوں نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ لیکن عراقی پارلیمنٹ میں سلامتی اور دفاع کے کمیشن کے رکن ماجد الغراوی نے کہا ہے کہ امریکی قیادت والا اتحاد عراق میں صرف اپنے فوجی اڈے بنانے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش سے جنگ کے دشوار ہونے کے بارے میں امریکہ کے سابق وزیر دفاع لئون پینٹا کے اظہار خیال کو امریکہ کے نئے مذاق سے تعبیر کیا کہ جس کا مقصد حکومت بغداد سے مراعات حاصل کرنا اور عراق میں اپنے فوجی اڈے قائم کرنا ہے۔کیوں کہ امریکہ اگر چاہے تو چند دنوں ميں ہی اپنے وسائل وذرائع کو بروئے کار لاتےہوئے داعش کے ٹھکانوں کا پتہ لگاسکتا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کے بعض نمائندوں نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ داعش کو امریکہ اور صہیونی حکومت نے جنم دیاہے کہا کہ داعش کے خلاف امریکہ اور نام نہاد بین الاقوامی اتحاد، اس دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے بہانے عراقی عوام کے ساتھ کھلواڑ کررہا ہے ۔ اس درمیان عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے بھی اس مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہ بعض ممالک نے داعش کی حمایت کی ہے اور اسے عراق میں داخل کیا ہے ، عراق کی سرزمین پر داعش کےبہانے غیر ملکی فوج کے داخل ہونے کی مخالفت کی ہے ۔عراقی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس ملک کی فوج، عوام کی حمایت سے داعش کے حملوں کا دفاع کرنے پر قادر ہے اور اس ملک میں کسی بھی غیرملکی فوج کے داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ اظہار خیال ایسے میں سامنے آیا ہے کہ عراق کے صدر گروپ نے بھی صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ امریکی فوج کے عراق ميں داخل ہونے کی صورت ميں ان پر حملہ کیا جائے گا ۔ مجلس اعلای عراق نے بھی اس ملک میں غیر ملکی فوجیوں کے داخل ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے داعش سے مقابلے کے لئے عراقی فوج میں توانائی موجود ہونے پر تاکید کی ہے۔

.......

/169