9 اکتوبر 2014 - 16:27
دہشتگردی کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کو بھی ضرب عضب کے نشانہ پر رکھا جائے، علامہ ساجد نقوی

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر علی آباد ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ، کوہاٹ میں دہشتگردانہ دھماکوں اور حالیہ سیلاب کی ہولناکیوں کے باعث عید الاضحٰی انتہائی سادگی سے منائی گئی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر علی آباد ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ، کوہاٹ میں دہشتگردانہ دھماکوں اور حالیہ سیلاب کی ہولناکیوں کے باعث عید الاضحٰی انتہائی سادگی سے منائی گئی۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر مسلسل بھارتی جارحیت افسوسناک ہے۔ کھلم کھلا جارحیت بین الاقوامی سفارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ملکی خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی، 8 اکتوبر کے زلزلے کو 9 سال بیت گئے مگر متاثرین بحالی کا کام مکمل نہ ہوسکا، سفیر امام حسین ؑ حضرت مسلم بن عقیل ؑ کے کمسن فرزندان کی شہادت درحقیقت لازوال قربانی، جانثاری اور نظریئے و ہدف سے گہری وابستگی کی علامت ہے، سانحہ کوہاٹ اور کوئٹہ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ملک کی داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ ایک تو گذشتہ کافی عرصے سے معطل شدہ سزائے موت کے قانون پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور دوسرا ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کیا جائے۔
مختلف علاقوں سے آئے علمائے کرام، عمائدین قوم اور اکابرین ملت سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ہزارہ ٹاؤن چاروں اطراف سے ایف سی بلوچستان کے حصار میں تھا، علاقے میں اتنی بھاری سکیورٹی ہونے کے باوجود دہشتگردی کے اس واقعے کا رونما ہونا، ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر پچھلے سانحات کی تحقیقات کرکے رپورٹ کو منظر عام لایا جاتا اور خونی دہشتگردوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آج ملک بھی میں اس قسم کے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن افسوس سے دیکھ رہے ہیں کہ انتظامیہ دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی بجائے دباؤ میں آکر قاتلوں کو رہا کرکے مقتولین پر ہی ہاتھ ڈال رہی ہے جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی اورنا انصافی ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ملک کے عوام شدید عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہیں اور ریاستی اداروں سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر ارض پاک کو کیوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کی قربان گاہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر قصاص کے قرآنی قانون اور اصول پر عمل پیرا ہوکر اعلٰی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے قاتلوں اور دہشت گردوں کی سزاؤں پر عمل درآمد ہوتا اور وہ تختہ دار پر لٹکائے جاتے تو ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، جس کا ہم سختی سے نوٹس لے رہے ہیں کہ سزائے موت کیوں نہیں دی جارہی ،ٹارگٹ کلنگ مسلسل جاری ہے لوگ مارے جا رہے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرکے ان کا خاتمہ کیا جانا چاہیے، آخر میں انہوں نے شہداء کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے ورثاء اور لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

.......

/169