اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری و امام جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے پولس کے ذریعہ بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولس کا کہنا ہے کہ ان دونوں لڑکوں نے ریوالر چھیننے کے جرم کو قبول کرلیا ہے پولس کی مار کے خوف یا پٹائی سے بچنے کے لئے کوئی بھی کیسے بھی جرم کا اقرار کرسکتا ہے، یوں بھی قانون کے مطابق پولس کے سامنے کئے گئے اقرار جرم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی اس لئے کہ یہ اقرار جرم خوف و زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے، مولانا نے کہا کہ پولس ابھی بھی کچھ فرقہ پرست لیڈروں کے اشارے چند القاعدہ و طالبان پرست مولویوں کو خوش کرنے کے لئے زیادتی کررہی ہے اور جوانوں کو گرفتار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اگر یہ کارروائی جلد روکی نہ گئی اور بے گناہ لڑکوں کی رہائی عمل میں نہ لائی گئی تو ہم جلد ہی کوئی مناسب قدم اٹھائیں گے۔ مولانا جواد نقوی نے شیعہ اوقاف میں ہورہی خرد برد کے مسئلے پر بولتے ہوئے کہا کہ اوقاف کی جائدادیں کھلے عام بیچی جارہی ہیں، حسین آباد ٹرسٹ میں کھل کر بے ایمانیاں ہورہی ہیں مگر اب خوش آئند خبر یہ ہے کہ جسٹس حیدر عباس رضا آگئے ہیں ہماری ان سے یہی گذارش ہے کہ وہ پہلے حسین آباد ٹرسٹ کی جائداد کو معین کریں کہ وہ کتنی ہے اور کہاں کہاں ہے اور پھر بے ایمانیوں کا پتہ لگا کر کارروائی کریں، انہوں نے کہا کہ حسین آباد ٹرسٹ کی کمیٹی جلد ہی تشکیل دی جائے گی جس میں علماء اہم کردار ادا کریں گے، اس طرح بہت سے وقف کے مسائل شریعت کی روشنی میں طے کئے جائیں گے، مولانا کلب جواد نے بہار میں ہونے والی دہشت گردی مخالف ریلی کے سلسلے میں کہا کہ بہار کے لوگوں نے ہمیں خود دعوت دی ہے لہذا ریلی پہلے بہار میں ہوگی اسکے بعد اترپردیش میں ہوگی، بہار میں ریلی کرنے کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم نے یو پی میں ریلی کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا ہے بلکہ یو پی میں ریلی کی تاریخ کا اعلان بہار میں ریلی کے بعد کیا جائیگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲