اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران میں انڈونیشا کے اہلسنت علماء سے ملاقات کے دوران آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا کہ اس وقت دنیا میں اسلام کی ترقی و توسیع کا بہترین موقع ہے اور دنیا کے لوگ مادیگرائی اور مادہ پرستی سے تنگ آچکے ہیں اور اب معنوی پناہ گاہ کی تلاش میں ہے۔
مرجع تقلید نے کہا: وہ چیز جو دنیا کے لوگوں کی پیاس بجھا سکے گی وہ صرف دین مبین اسلام ہے ۔ ہم لوگوں کو چاہیئے کہ اس مناسب موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس طرح مستقبل میں دنیا والوں کا دین دین اسلام ہوگا اور اتحاد ہی اس راہ تک پہنچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا : اسلام کے تمام مذاہب سے انتہا پسندی کو ختم کرنی کی ضرورت ہے کیونکہ انتہا پسندی اختلافات و اسلامی دنیا میں داخلی جنگ کا سبب بن رہی ہے۔
مرجع تقلید نے بعض اسلامی ممالک بالخصوص عراق و شام میں جاری تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں جاری خون خرابہ انتہا پسندانہ فکر کا نتیجہ ہے۔
آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے علماء اسلام سے تاکید کہ کہ وہ انتہاپسندانہ فکر کو جڑ سے ختم کرنے کی کوششیں کریں تاکہ امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کا رشتہ مستحکم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲