29 ستمبر 2014 - 06:31
شام اور عراق میں 3000 ہزار یورپی دہشت گرد سرگرم

یورپی یونین میں دہشت گردی سے جدوجہد کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں یورپی ممالک کے تقریبا تین ہزار دہشت گرد سرگرم ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جل كرچوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے ٹھکانوں پر مغرب کے حملوں کے جواب میں یورپی ممالک میں انتقامی کاروائیاں ہو سکتی ہیں۔

امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد نے اگست کے مہینے میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے شروع کئے تھے اور اب تک عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر دو سو سے زیادہ فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ امریکہ کی قیادت میں بننے والے بین الاقوامی اتحاد نے گزشتہ پیر سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی ہے۔ كرچوف کا کہنا ہے کہ ان تین ہزار لوگوں میں وہ لوگ شامل ہیں جو شام اور عراق میں داعش کے ساتھ سرگرم ہیں، جو وطن واپس لوٹ چکے ہیں یا جو وطن لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

كرچوف کا کہنا ہے کہ جون سال 2014 میں داعش نے خلافت کے اعلان کے بعد زیادہ تر یورپی شہریوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ یورپی یونین کے اس عہدیدار کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گرد، امریکا اور یورپی ممالک میں انتقامی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش نے فرانس کے ہوائی حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الجزائر میں فرانس کے شہری کا سر قلم کر دیا۔

كرچوف کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ القاعدہ جیسے داعش کے حریف یورپی ممالک میں حملے کریں کیونکہ داعش کے بڑھتے اثر و رسوخ، القاعدہ کو بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے حملے پر مجبور کر دے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ سلامتی کونسل نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کرکے عراق اور شام میں سرگرم دہشت گردوں سے واسبتہ ہونے کے لیے تمام ممالک سے اپنے شہریوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی فوج میں بحرالکاہل کی فوجی کمان کے سربراہ سیموئل لاكلر نے پینٹاگن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بحرالکاہل کے ساحلی ممالک کے تقریبا ایک ہزار شہری داعش کی رکنیت قبول کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ بھی سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ نہیں کیا کہ بحرالکاہل کے کنارے پر واقع 36 ممالک میں سے کن ممالک کے شہری داعش میں شامل ہوئے ہیں۔
.......

/169