اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 69ویں سالانہ سربراہی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں امن کے حصول کے لیے کشمیر مسئلہ کے حل پر زور دیا۔
ہندوستان سے متعلق انہوں نے تین مسائل کو پرزور طریقہ سے اٹھایا۔
نواز شریف نے کشمیر میں ریفرنڈم کے انعقاد کا مطالبہ کیا، ہندوستان کی جانب سے خارجہ سکریٹری مذاکرات کی منسوخی کو ’افسوس ناک‘ قرار دیا اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں توسیع کی مخالفت کی۔
انھوں نے کہا کہ ہند و پاک تعلقات میں بہتری لانے کے ’کئی بہترین مواقع‘ سامنے آتے رہے، جنھیں، ’بدقسمتی سے ضائع کیا جاتا رہا‘۔
ماضی میں عالمی ادارے کی منظور کردہ قرار دادوں کا ذکر کرتے ہوئے، پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’کشمیری عوام اقوام متحدہ کی طرف سے چھ عشرے قبل استصوابِ رائے کے بارے میں کیے جانے والے وعدے کی تکمیل کے اب تک منتطر ہیں‘۔
نواز شریف نے کہا کہ ’پاکستان دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اور دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے سلسلے میں پر عزم ہے۔‘
غزہ پر حالیہ صیہونی حارحیت کے تعلق سے پاکستانی وزیر اعظم نے ’فلسطینیوں کے قتل عام‘ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ’کثیر انسانی جانوں‘ کے ضائع ہونے پر تعزیت اور دکھ کا اظہار کیا۔
نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ انھوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قراردادوں کے تحت، فلسطین کا مستقل و دیرپہ حل تلاش کرے۔
.......
169