اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فلسطین کے دو گروہوں حماس اور فتح کے درمیان قومی آشتی کے موضوع پر ہونے والے معاہدے پر دونوں گروہوں کی آمادگی کی خبریں ہیں۔ مصر کی ثالثی سے ہونے والے اس معاہدے پر گذشتہ دو روز سے مذاکرات جاری تھے۔ اس معاہدے پر حماس اور فتح کے دریمان 23 اپریل 2014 میں دستخط کر دیئے گئے تھے، لیکن اب اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اسکو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ حماس کے نمائندے موسیٰ ابو مرزوق اور فتح کے نمائندے عزام الاحمد نے حالیہ مذاکرات پر خوشی اور اطمئنان کا اظہار کیا ہے اور اس معاہدے پر عمل در آمد کے حوالے سے کہا ہے کہ قومی وحدت کی حکومت، غزہ کی گذر گاہوں اور غزہ پٹی میں موجود سیکیورٹی فورسز کی نگرانی نیز حالیہ صہیونی حملوں کے بعد غزہ کی تعمیر نو اس معاہدے کی ترجیحات ہیں۔
فتح اور حماس کے وفود کے درمیان منگل سے قاہرہ میں مذاکرات جاری تھے اور اس میں فلسطین کی آزادی کی تنظیم ساف کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی نئے انتخابات غزہ کی تعمیر نو، دوم معاہدے پر دستخط اور صہیونی مظالم کے نتیجے میں صہیونی حکام پر مقدمہ چلانے جیسے موضوعات زیر بحث رہے۔
غزہ پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد حماس اور فتح کے درمیان یہ پہلے مذاکرات تھے۔ ان حملوں میں دو ہزار ایک سو پچاس افراد شھید، گیارہ ہزار زخمی جبکہ چھ ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے قومی آشتی کے معاہدے پر دستخط کے بعد 2 جون 2014 کے دن رام اللہ میں قومی اتفاق کی حکومت کا اعلان کیا تھا۔ یہ معاہدے ایسے عالم میں کئے گئے کہ اس سے پہلے حماس اور فتح کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے لیکن امریکی اور صہیونی سازشوں سے ان میں سے کسی بھی معاہدے پر عمل در آمد نہیں ہو سکا۔
حماس اور جہاد اسلامی جیسے فلسطینی گروہوں کا اب اس پر اتفاق ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور اسرائیل نواز ملکوں اور گروہوں سے مقابلے کے لئے بہترین راستہ فلسطینی گروہوں کے درمیان صلح و آشتی اور اتحاد ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی خود مختار انتظامیہ نے عوامی رائے عامہ کے دبائو میں آ کر حماس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ہے اور یہ بات حماس سے اسکی سنجیدہ گفتگو کا آغاز ثابت ہوئی ہے۔ حماس کی شروع سے ہی یہی رائے رہی ہے کہ فلسطینیوں کے درمیان اتحاد ہونا چاہئے اور ساز باز مذاکرات سے پرہیز کرنا چاہئے۔
بہر حال فلسطینیوں کی جانب سے قومی اتحاد کی حکومت فلسطینیوں کی قدرت اور طاقت میں اضافے اور صہیونی حکومت کے خلاف مختلف میدانوں میں استحکام کا باعث بنے گی اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اور اسکی حامی مغربی حکومتیں فلسطینیوں کے باہمی اتحاد کو اپنی سازشوں سے ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کریں گی۔ ایسی صورتحال میں مقاومت اور استقامت کو فلسطینیوں کی قومی آشتی کا مرکز اور محور قرار دے کر دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲