24 ستمبر 2014 - 18:22
عراق ميں داعش کے خلاف فوج کي پيشقدمي

عراق ميں دہشت گردوں کے خلاف فوج اور عوامي رضاکارفورس کي پيشقدمي جاري ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں ميں دسيوں دہشت گردوں کوہلاک کرديا گيا ہے

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق ميں داعش کے خلاف فوج کي پيشقدميعراق ميں دہشت گردوں کے خلاف فوج اور عوامي رضاکارفورس کي پيشقدمي جاري ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں ميں دسيوں دہشت گردوں کوہلاک کرديا گيا ہے

داعش کے خلاف عراقی سیکورٹی فورس کی کاروائيوں میں روز بروز شدت آتی جارہی ہے۔ عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں داعش کے درجنوں عناصر کو ہلاک کردیا گیا ہے۔
المیادین ٹی وی کے مطابق صوبہ صلاح الدین میں عراقی فوج اور داعش کے درمیان شدید جھڑپوں کی خبر دی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ان جھڑپوں میں داعش کے پچاس سے زائد دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ دہشتگردوں کا صفایا کرنے کی غرض سے عراق میں عوامی رضاکار گروہوں کی تشکیل کا عمل بھی تیز ہو گیا ہے۔
عراقی رکن پارلیمنٹ زنتون حسین نے بتایا ہے کہ داعش کے کنٹرول والے علاقوں کے مکینوں نے دہشتگردوں کو بے دخل کرنے کے لئے بہت سے رضا کار گروپ قائم کرلئے ہیں، انہوں نے کہا کہ عراقی فوج ، قبائلی لشکر اور رضاکار فورس کی مدد سے ، جنوبی بغد اد کے نواحی علاقوں کو دہشتگردوں کے قبضے سے چھڑانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ کے بہانے عراق کے بعض علاقوں پر فضائی حملے شروع کردیئے ہیں،
کرکوک کے گورنر ہاوس نے بتایا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے پہلی بار شہر کرکوک کے جنوبی علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ امریکہ اور مغرب کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کا دعوی ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب عالمی ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ خبروں میں تسلسل کے ساتھ کہا جارہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں یورپی ملکوں کے شہری عراق اور شام میں سرگرم دہشتگرد گروہوں میں شامل ہیں۔

یورپی یونین میں انسداد دہشتگردی کے کوآرڈی نیٹر گيلز دو کرشوف کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں جنگ کے لئے جانے والے یورپی دہشتگردوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں لڑنے والے دہشتگردوں میں زیادہ تر کا تعلق برطانیہ، فرانس، جرمنی، بیلجیئم ، ہالینڈ ، سوئڈن اور ڈینمارک سے ہے۔
بعض رپورٹوں میں کہا گيا ہے کہ دنیا کے چوہتر ملکوں کے تقریبا بارہ ہزار دہشتگرد شام اور عراق میں دہشتگردانہ کاروائیاں انجام دے رہے ہیں۔
روزنامہ الحیات کے مطابق عراق اور شا م میں لڑنے والے سعودی عرب کے دہشتگردوں کی تعداد پچیس ہزار کے قریب ہے اور ان میں سے زیادہ تر کی عمریں اٹھارہ سے پچیس برس کے درمیان ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں کو لبھانے کے لئے سعودی لڑکیوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب جو پچھلے کئی برس سے شام اور عراق میں سرگرم دہشگرد گروہوں کی مالی اور اسلحہ جاتی امداد اور حمایت کرتا چلا آرہا ہے، گزشتہ دنوں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام سے ایک اجلاس کا میزبان تھا، اسی طرح کا ایک اجلاس پیرس میں بھی منعقد ہوا تھا جس میں یورپی ملکوں کے علاوہ خلیج فارس کے عرب ممالک بھی شریک تھے۔
پیرس اجلاس میں اگر چہ عراق بھی شریک تھا تاہم عراقی حکام نے واضح کردیا تھا کہ داعش کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی ، متعلقہ ملکوں کی اجازت اور ہماہنگی سے انجام پانا چاہیے۔

عراق نے داعش کے خلاف جنگ کے بہانے اپنے ملک میں غیر ملکی فوج کی زمینی کاروائی کی بھی سختی کے ساتھ مخالفت کی تھی۔ عراقی وزیراعظم نے کہا تھا کہ فوج اور قومی ر ضاکار فورس کے جوان داعش کو شکست دینے کی پوری توانائی رکھتے ہیں۔
بحران عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد داعش نے ایک بار پھر خودکش حملوں اور کار بم دھماکوں کا حربہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

عراقی ذرا‏ئع کے مطابق بغداد کے نواح میں واقع شیعہ آبادی والے الصدر ٹاون میں ہونے والے کار بم دھماکے میں چودہ افراد شہید اور سڑسٹھ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

بہرحال مجموعی طور پر عراقی فوج، قومی رضاکار، اور کرد ملیشیا کے ارکان صورتحال پر تیزی کے ساتھ مسلط ہوتے جارہے ہیں اور داعش کو مسلسل پسپائی کا سامنا ہے، بعض رپورٹوں میں کہا جارہا ہے کہ کرد ملیشیا نے صوبہ دیالہ کے تیس دیہات کو داعش کے قبضے سے جھڑالیا ہے۔مشرقی عراق سے ملنے والی خبروں کے مطابق عراقی فوجی اور قومی رضا کاروں کی ممکنہ کاروائی کے خوف سے داعش کے دہشتگرد اپنے مورچے چھوڑ کر شام کی جانب فرار ہورہے ہیں۔

.......

/169