اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سید عباس عراقچي نے پیر کی رات ایرانی ٹی وی کے چینل-2 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامع جوہری معاہدے کی تدوین ایک مشکل کام ہے اور یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے جب تمام موضوعات کے بارے میں سیاسی سطح پر اتفاق ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا 60 سے 70 فیصد مسودہ تیار ہے اور تیس فیصد کے بارے میں اختلافات ہیں جس کے بارے میں فیصلہ کیا جانا باقی ہے۔
عراقچي نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ 18 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہو گا اورجامع جوہری معاہدے پر اتفاق کے لئے ازسر نو کوششیں کی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد کی گئی نئی پابندی، جنیوا معاہدے کے نفاذ میں نیک نیتی کے خلاف ہے اور اگر ایران پر دوبارہ کوئی نئی پابندی لگائی گئی تو تہران ضرور ہی اس پر رد عمل کا اظہار کرے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچي نے کہا کہ مذہبی عقائد، قائد انقلاب کے فتوے اور تہران کی سیکورٹی حکمت عملی کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران میں جوہری ہتھیاروں کا کوئی مقام نہیں ہے۔
.......
/169