اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں گذشتہ چند روز سے جاری موسلا دھار بارشوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔ دریاوں کی سطح آب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے بعد سرینگر کی متعدد بستیاں زیر آب ہو گئی ہیں سڑکیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ اکثر پل یا مکمل طور پر بہہ گئے یا ٹوٹ چکے ہیں جن کی وجہ سے ایک شہر سے دوسرے شہر کے ساتھ رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق تاہم ۱۰۰ سے زیادہ افراد گھروں کے ڈھیر ہوجانے، پسیوں تلے دب جانے یا دریائوں میں بہہ جانے کی وجہ سے اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔
جاری بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے انتظامیہ کو کئی علاقوں میں لاشیں بازیافت کرنے میں دقت آرہی ہی۔ جنوبی اور وسطی کشمیر میں زبردست تباہی کے بعد اب سیلاب نے شمالی کشمیر کا رخ اختیار کیا ہے جہاں صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے اور متعدد علاقے زیرآب آچکے ہیں ۔ سرینگر میں جمعہ کو جہلم ویلی کالج مکمل طور خالی کیا گیا اور مزید کئی اور علاقے زیر آب آگئے جبکہ بڈگام میں 6 مکانات منہدم ہوگئے ہیں اور 100کے قریب مکان زیر آب آگئے ہیں۔ دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے نتیجے میں کروڑوں روپئے کا نقصان ہوچکا ہے جس میں رہائشی مکانات،دکان ،کھڑی فصلیں اور میوہ باغات شامل ہیں۔ فوج کو وادی کے کئی علاقوں میں بچائو کارروائیوں کیلئے تعینات کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ریاست کے اکثر دریا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں ۔ سرینگر شہر میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ جمعرات کی صبح سے مزید کئی علاقے زیر آب آچکے ہیں اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا۔
ادھر صوبہ جموں کے علاقے راجوری پونچھ اور خاص طور پر سرنکوٹ کو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا ہے اطلاعات کے مطابق دسیوں گھر دریائوں کی طغیانی سے بہہ گئے ہیں۔














۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲