اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجلس اعلائے شیعیان لبنان کے بانی امام موسی صدر کو اغواء ہوئے ایسی حالت میں چھتیس برس مکمل ہورہے ہیں کہ جب لبنان کےعوام اور سیاسی جماعتیں بہت بے صبری کے ساتھ ان کے اغواء کی صورتحال واضح کۓ جانے کے خواہاں ہیں۔ اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان نے امام موسی صدر کے اغواء کو چھتیس برس مکمل ہونے کے موقع پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں امام موسی صدر کے اغواء کے واقعے کو لبنان کی تاریخ میں ملت کے لۓ ایک المناک اور دکھ بھرا واقعہ قرار دیا گیا ہے اور لیبیا میں انقلاب کے بعد برسراقتدار آنے والی ان حکومتوں کو اس ظلم کا ذمےدار گردانا گيا ہے جنھوں نے ابھی تک امام موسی صدر کی رہائی کے لۓ کوئي اقدام انجام نہیں دیا ہے۔ حزب اللہ نے تاکید کی ہےکہ عالمی برادری اور عرب ممالک نے امام موسی صدر کی آزادی کے سلسلے میں کوئي قدم نہیں اٹھایا ہے اس لۓ وہ بھی ان کے اغواء کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ دریں اثناء امام موسی صدر کے بیٹے صدر الدین صدر نے جمعے کے دن جنوبی لبنان میں اس موقع پر منعقد ہونے والی کانفرنس میں کہا کہ امام موسی صدر کے خاندان کا یہ مطالبہ ہےکہ امام موسی صدر اور ان کے ساتھیوں کو صحیح سالم لبنان لایا جائے۔ صدر الدین صدر نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ قذافی کی موت کے بعد امام موسی صدر کے لاپتہ ہونے کا معاملہ زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے ، لیبیاکے حکام کی جانب سے امام موسی صدر کی صورتحال کے بارے میں تعاون نہ کرنے پر اپنی ناراضگي کا اظہار کیا اور کہاکہ لیبیا میں انقلاب کے ابتدائی تین برسوں کے دوران امام موسی صدر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ حل کرنے کا بہترین موقع تھا لیکن افسوس کہ اس بارے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
واضح رہےکہ امام موسی صدر اور ان کے ساتھ ایک وفد اکتیس اگست سنہ انیس سو اٹھہتر میں لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر قذافی کی جانب سے سرکاری دعوت پر لیبیا گيا تھا اور اسے دورے کے موقع پر امام موسی صدر اور ان کے ساتھ جانے والے وفد کے اراکین کو اغواء کر لیا گیا اس زمانے سے لے کر آج تک امام موسی صدر اور ان کے ساتھیوں کا کچھ پتہ نہیں چلا ہے۔ امام موسی صدر اور ان کے ساتھیوں کے اغواء کی نوعیت اور ان کی صورتحال کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ لبنان کے حکام اور عوام دستیاب دستاویزات کے پیش نظر لیبیا کو امام موسی صدر کے اغوا کا ذمے دار جانتے ہیں۔ لیبیا نے خصوصا قذافی کے زمانے میں امام موسی صدر کے معاملے کے حل کے سلسلے میں تعاون نہیں کیا۔ جس ک باعث لیبیا کو ہی امام موسی صدر کے اغواء میں ملوث سمجھے جانے کے گمان کو تقویت ملی ہے۔ دریں اثناء لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی کے مخالفین نے بھی سابقہ حکومت کے زمانے میں کہا تھا کہ امام موسی صدر زندہ ہیں اور ان کو سیکورٹی فورسز کی حراست میں ایک خاص مقام پر رکھا گيا ہے۔ قذافی کے ان مخالفین نے بھی قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس معاملے کے حل کے سلسلے میں ضروری تعاون نہیں کیا ہے۔ بہرحال امام موسی صدر ایک ایسی شخصیت تھے جس نے لبنان میں قومی اتحاد کے لۓ بہت کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اغواء لبنان کے لۓ ایک بہت بڑا نقصان شمار ہوتا ہے۔ لبنان کے حالات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امام موسی صدر نے صیہونیت مخالف تحریک شروع کر کے صیہونی حکومت کے قبضے سے جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے کی آزادی کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ لبنان کے عوام کے درمیان آج بھی ان کی مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہوئي ہے اور لبنان کے عوام ان کو کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲