اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش کے سرغنوں کے درميان ان کےمفتيوں کے اس قسم کے فتوؤں کے بعد مسلح جنگ چھڑگئي ہے - تکفيري عناصر کو جزيہ کي ادائيگي ، موصل کے باشندوں کو افغان لباس پہننے پر مجبور کرنے اور دوکانوں سے ديگر ملبوسات کو ہٹادينے اور اب انٹرنيٹ ، سٹلائٹ اور اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندي کے داعش کے مفتيوں کے عجيب و غريب فتوؤں سے اس گروہ کي ماہيت اور زيادہ آشکارہ ہوتي جارہي ہے-
اس وقت عراق کے شيعہ و سني عوام اپنے ملک کي فوج کے شانہ بشانہ اس دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ کررہے ہيں اور فوج کے لئے عراقي عوام کي اسي حمايت کے نتيجے ميں عراق ميں دہشت گردوں کو بھاري شکست اٹھاني پڑرہي ہے اور بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کراليا گيا ہے -
.......
/169