اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق ميں تکفيري دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف فوج اور عوامي رضاکار فورس کے جوانوں کا ہمہ گير آپريشن جاري ہے - اسي کے ساتھ صدر فواد معصوم نے دہشتگردي کے خاتمے کي مہم کو زيادہ موثر بنانے کے لئے ايک اعلي دفاعي کونسل کي تشکيل کے احکامات صادر کرديئے ہيں-
دہشت گردوں کے مقابلے ميں عراق کي توانائيوں کي تقويت اور اس سلسلے ميں عراقي حکام کے درميان زيادہ سے زيادہ صلاح ومشورے کي کوششوں کے تحت عراقي صدر فواد معصوم نے ايک اعلي دفاعي کونسل تشکيل دينے کے احکامات صادر کئے ہيں –
عراقي صدر کا کہنا ہے کہ صدر وزيراعظم اور اسپيکر جيسے اعلي عہديداروں پر مشتمل ايک اعلي دفاعي کونسل کي تشکيل ضروري ہے تاکہ ملک ميں سيکورٹي کے مسائل کو حل کيا جاسکے –
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ عراقي سيکورٹي ذرائع کا کہنا ہے کہ تکريت کے دوعلاقوں کو داعش کے دہشت گردوں سے پاک کرديا گيا ہے -
رپورٹ کے مطابق صوبہ صلاح الدين ميں بھي دہشت گردوں کے خلاف سخت کاروائي کے بعد عراقي فوج اور سيکورٹي فورس نے تکريت کے مغرب اور جنوب مغرب کے دوعلاقوں شيشين اور الديوم کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کراليا ہے -
دوسري جانب عراق کے مغربي صوبہ الانبار ميں عراقي فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گردوں نے الرمادي کے شمال ميں واقع البوفراج علاقے پر حملہ کيا ليکن عراقي فوج نے مقامي قبائل کي مدد سے اس حملے کو ناکام اور دہشت گردوں کو پسپائي اختيار کرنے پر مجبور کرديا-
اس درميان ايک عراقي فوجي عہديدار نے بتايا ہے کہ فوج نے صوبہ الانبار ميں لڑائي کے دوران اسي ّ دہشت گردوں کو ہلاک کرديا ہے -
عراقي فوج نے اسي طرح صوبہ نينوا ميں بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے واپس لينے کے ساتھ ساتھ ايک سو بيس دہشت گردوں کو ہلاک کرديا ہے - ان کاروائيوں ميں دہشت گردوں کي ساٹھ سے زيادہ گاڑياں بھي تباہ کردي گئي ہيں- خبروں ميں بتايا گيا ہے کہ فوج نے موصل ڈيم کے اطراف کے ديہي علاقوں پر کنٹرول حاصل کرليا ہے –
اس درميان عراق کے عبوري وزيرخارجہ نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بين الاقوامي مدد کي درخواست کي ہے –
عراق کے عبوري وزيرخارجہ حسين شہرستاني نے داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے عراقي عوام کے لام بند ہوجانے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ داعش جيسے دہشت گرد گروہ کا صفاياکرنے کے لئے بين الاقوامي مدد ضروري ہے –
عراق کے عبوري وزيرخارجہ حسين شہرستاني نے کہاکہ عراق اپني ارضي سالميت اور اقتدار اعلي کا دفاع کرنے کےساتھ ساتھ ، دہشتگردوں کو ختم کرکے خطے عالمي سطح پر بھي دہشتگردي کے خاتمے اور قيام امن کي کوششوں ميں مصروف ہے -
دوسري جانب عراق کے علما کي تنظيم کے سربراہ خالد الملا نے دہشت گردوں کے ذريعے صلاح الدين صوبے ميں آمرلي شہر کا محاصرہ کرلئے جانے کے بعد دوست ملکوں سے کہا ہے کہ وہ عراقي حکومت کي مدد کرکے اس علاقے کے لوگوں کا قتل عام ہونے سے روکيں –
خالد الملا نے کہاکہ امريکا نے دہشت گردوں کے ذريعے محاصرہ کئے گئے عراقيوں کے بارے ميں دوہرامعيار اپنا رکھا ہے- انہوں نے کہا کہ امريکا نے صرف ايزدي اور عيسائي فرقوں پر ہي اپني توجہ مرکوز کررکھي ہے جبکہ آمرلي کے علاقے کے محصور باشندوں کو فراموش کرديا ہے اور عالمي برادري بھي ان کے مصائب و آلام پر توجہ نہيں دے رہي ہے –
عراق کي جماعت علما کے سربراہ نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ سبھي عراقي ايک جيسے ہيں اور مصائب و مشکلات کے وقت سب کو ايک نگاہ سے ديکھنے کي ضرورت ہے عراقيوں کے درميان تفريق کے قائل ہونے کي مذمت کي ہے -
.......
/169