15 اگست 2014 - 08:43
نوری مالکی نے نئے وزیر اعظم کی حمایت کی

عراق میں سیاسی جماعتوں کے مابین پائی جانے والی ہم آھنگی کے بعد اب اس ملک میں جلد ہی نئی حکومت بن جائے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کےسرکاری ٹی وی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوری المالکی نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد صدر کی جانب سے نامزد کئے جانے والے حیدر العبادی نئے وزیراعظم بن گئے، دوسری جانب استعفے کے حوالے سے نوری المالکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک میں اتحاد قائم رکھنے کے لئے اپنے عہدے سے استعفی دیا۔
ترجمان وزیراعظم ہاؤس علی الموسوی کا کہنا ہے کہ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کی جانب سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے حوالے سے صدارتی فیصلے کے خلاف دائر درخواست بھی واپس لے لی جائے گی۔
اس سے قبل نوری المالکی نے اس ملک کے صدر فواد معصوم کی جانب سےحیدر العبادی کوحکومت بنانے کی دعوت دی تھی جس پر نوری المالکی نے اسے غیر قانونی اقدام قراردیتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن عراق کی موجودہ صورتحال نے نوری المالکی کو اس سے روک دیا اور انہوں نے اپنے مطالبات پر قومی مصلحت اور مفادات کو ترجیح دی۔ اس طرح اب نوری المالکی کی جانب سے حیدرالعبادی کی حمایت کے بعد یہ توقع کی جاتی ہے کہ عراق میں جلد ہی حکومت سازی کا عمل شروع ہو گا اور بعض اطلاعات کے مطابق حیدرالعبادی نے کابینہ کی تشکیل کیلئے سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ البتہ عراق میں اس وقت جو بات حوصلہ افزا ہے وہ یہ کہ حیدرالعبادی کی تمام سیاسی اور مذھبی جماعتوں نے حمایت کی ہے۔ جو کہ اس ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک مثبت قدم ہے ۔ البتہ ایسے میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کس لئے نوری المالکی نے وزارت عظمی کے عہدے کی دوڑ سے علیحدگی اختیار کی۔ اس بارے میں بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بعض سیاسی جماعتیں، نوری مالکی کے خلاف تھیں اس لئے وہ پیچھے ہٹ گئے۔ جبکہ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ عراقی مرجعیت کے کہنے اوردعوہ پارٹی میں وزارت عظمی کے منصب کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کو حل کرنے کیلئے ثالثی کے کردار کی وجہ سے مالکی اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن عراق کی جاری سیاسی صورتحال وجہ بنی کہ نوری المالکی عراقی قوم کے بہتر مفاد میں نہ فقط اس دوڑ سے پیچھے ہٹ گئے بلکہ حکومت کی تشکیل میں بھر پور تعاون کا یقین بھی دلایا۔
عراق میں اس وقت جس چیز کی زیادہ ضرورت ہے وہ سیاسی جماعتوں کے مابین سیاسی ہم آھنگی ہے۔ اور اس کیلئے سب سے پہلے حکومت کی تشکیل ضروری ہے۔ جس سے اس ملک کے کئی مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس لئے کہ گذشتہ دو سال کے دوران حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور اختلافات تھے۔ لیکن اب اس ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور نئی حکومت کی تشکیل سے یہ اختلافات حل ہوں گے۔
حیدر العبادی کے پاس ایک ماہ کا وقت ہے کہ وہ اپنی کابینہ کا اعلان کریں اور تقریبا ایک ہفتہ گذر گیا ہے لیکن نوری مالکی کی جانب سے وزارت عظمی کے امیدوار کی حیثیت سے استعفی اور حیدر العبادی کی حمایت کے بعد سیاسی حالات بدل گئے ہیں اور اب توقع کی جاتی ہے کہ نئی حکومت جلد بن جائے گی جو اس ملک میں سیاسی، قومی اورمذھبی ہم آہنگی سے متعلق ہو گی۔

.......

/169