اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانيہ کي حکومت نے ، عوام کے دباؤ کے نتيجے ميں اعلان کيا ہے کہ، جنگ بندي ختم ہونے اور حماس اور اسرائيل کے درميان دوبارہ جنگ شروع ہونے کي صورت ميں، تل ابيب کے لئے بعض فوجي وسائل کي سپلائي کا اجازت نامہ منسوخ کيا جاسکتا ہے.
برطانوي حکومت نے کہا ہے کہ غزہ ميں جنگ دوبارہ شروع ہونے کي صورت ميں صيہوني حکومت کے لئے ہتھياروں کي فروخت يا سپلائي کے بعض اجازت ناموں کو معطل کردےگي-
برطانوي حکومت کے بيان ميں غزہ ميں عارضي بندي اور مذاکرات کے ذريعے جنگ کو ختم کرنے پرمبني فريقين سے برطانوي حکومت کي درخواست کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اگرغزہ ميں جنگ دوبارہ شروع ہوتي ہے تو لندن اس انديشے کے پيش نظر کہ برطانوي ہتھياروں کا اسرائيل غزہ کي جنگ ميں استعمال کرے گا اسرائيل کو برطانوي ہتھياروں کي سپلائي کے اجازت نامے معطل کرديئے جائيں گے.
جماعتوں کے دباؤ کے بعد کہا گيا ہے کہ اسرائيل کو فروخت کئے گئے بعض برطانوي ہتھياروں کو غزہ کي جنگ ميں استعمال کيا گيا ہے.
برطانوي حکومت کے بيان ميں کہا گياہے کہ اسرائيل کو جن فوجي سازو سامان کي سپلائي روکي جاسکتي ہے ان ميں اسرائيل کے ميزائيلي ڈيفنس سسٹم آئرين ڈوم کے وسائل شامل نہيں ہوں گے.
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ برطانيہ کے نائب وزيراعظم نے غزہ ميں جنگ بندي کي حمايت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوي عوام اسرائيل کے لئے ہتھياروں کي برآمدات کو جو غزہ کي جنگ بندي کو توڑتے ہيں ناقابل قبول سمجھتے ہيں.
اسرائيل کو ہتھياروں کي سپلائي بند کرنے کے تعلق سے نہ صرف برطانوي حکومت پر دباؤ ہے بلکہ اسپين کي بھي حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ اسرائيل کے ساتھ فوجي ساز وسامان کي سبھي تجارت معطل کردے.
اسپين کي بائيں بازو کي جماعتوں نے اس سلسلے ميں پارليمنٹ ميں ايک بل بھي پيش کيا ہے جس ميں کہا گيا ہے کہ يہ بل انساني حقوق کي پاسداري اور غزہ کي جنگ کي وجہ سے پيش کيا گيا ہے-
واضح رہے کہ اسپين نے حال ہي ميں اسرائيل کے لئےہتھياروں کي فروخت روک دي اور ہتھياروں کي جو کھيپ اگست ميں اسرائيل جانے والي تھي اس کو بھي روک ديا ہے -
.......
/169