اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد قتل ہوگئے، پنجاب میں عوامی تحریک کے آٹھ کارکنان مار دیئے گئے، خاتون کو پولیس نے منہ میں گولی ماری، ہزاروں لوگ زخمی ہیں، پورا لاہور بند کر دیا گیا، ماڈل ٹاؤن کے لوگ گذشتہ سات دنوں سے محصور ہیں، بھلا اس طرح کی خبریں ہم پاکستانیوں کے کانوں پر کب کوئی اثر ڈالتی ہیں۔ ہم تو سو لوگوں کے مارے جانے کی خبریں یوں پی جاتے ہیں جیسے پانی کا ٹھنڈا گلاس۔ اسی طرح ملک میں دھاندلی ہوئی، جعلی ووٹ ڈالے گئے، یہ بھلا کونسی اہم باتیں ہیں، ہم تو گذشتہ چھے سالوں سے لوڈشیڈنگ کا عذاب برداشت کر رہے ہیں، سی این جی کی کمی دیکھ رہے ہیں، مہنگائی میں روز افزون اضافہ ہو رہا ہے، قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں، انصاف ناپید ہے، ملک دہشتگردی کا شکار ہے، اس کے باوجود یوم آزادی پر ہم یوں ناچتے ہیں جیسے آزادی اسی ناچ اور گانے کا نام ہے۔ پھر جب زمانے کی سختیاں ہمیں لاچار کر دیتی ہیں تو ہم چند گالیوں کے ذریعے اپنے غصے کو انڈیل کر خاموش ہوجاتے ہیں۔
ہمارا اکثر یہی موقف ہوتا ہے کہ سب چور ہیں، کوئی ایسا نہیں جو عوام کے ان مسائل پر آواز اٹھائے، یہ سب حکومتیں کرنے آتے ہیں، جب حکومت میں آتے ہیں تو اپنے وعدے بھول کر عیاشی میں لگ جاتے ہیں۔ دہائیوں سے ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔ یہ موقف بشمول میرے ان لوگوں کا ہوتا ہے، جو چاہتے ہیں کہ ملک میں تبدیلی آئے اور اس تبدیلی کے حقیقی ثمرات ہماری جھولی میں ڈال دیئے جائیں، لیکن اس تبدیلی کے لیے ہمیں کچھ کرنا نہ پڑے۔ زیادہ تر لوگوں کا تو یہی خیال ہے کہ ہمارے ملک میں تبدیلی آسمان سے نازل ہونی ہے، کیونکہ یہ دھرتی تو اس قابل ہی نہیں رہی کہ کوئی لائق فرزند پیدا کرسکے۔
آج وطن عزیز ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ فیصلہ کن اس لیے کہ ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والی دو قوتیں اور ان کے اتحادی آخری جنگ کے لیے میدان عمل میں اتر چکے ہیں۔ اس سے قبل یہ دونوں گروہ جن کی منزل ایک ہی تھی، الگ الگ روشوں پر گامزن تھے۔ 2013ء کے الیکشن سے قبل قادری صاحب تن تنہا میدان عمل میں اترے۔ قادری صاحب کی باتوں سے کسی کو کوئی اختلاف نہ تھا، اختلاف تھا تو ان کے طرز عمل اور فیصلہ سازی کے عمل پر۔ قادری صاحب اپنے فیصلوں میں نہ تو کسی کو شریک کرتے تھے اور نہ ہی کسی سے مشاورت کے قائل تھے، جس کے سبب اکثر ان کے فیصلے حالات کے تحت بدلتے رہتے تھے۔ تحریک انصاف نے باہمی مشاورت سے اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس موقف کی حمایت کرنے کے باوجود قادری صاحب کی اس تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ انتخابی عمل میں شریک ہوکر نظام کو آزمائیں گے۔ وقت کی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے میری نظر میں یہ تحریک انصاف کا ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا، تاہم بعد کے انتخابات نے یہ ثابت کیا کہ واقعی ڈاکٹر صاحب صحیح کہتے تھے کہ انتخابات صاف اور شفاف نہ ہوں گے، بلکہ اس میں دھاندلی کی انتہا کی جائے گی۔ قادری کا انتخابات سے پہلے کا موقف بعد میں پاکستان کی متعدد پارٹیوں کا موقف بن گیا۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی سبھی نے کہا کہ واقعی ان انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، لیکن یہ جماعتیں چونکہ پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی کے عنصر سے پہلے سے آگاہ ہیں اور ملکی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی خواہاں نہیں ہیں، لہذا خاموش ہوگئیں۔
عمران خان کے لیے دھاندلی قابل برداشت نہ تھی، دھاندلی کے خلاف لڑنا عمران کی سیاسی زندگی کی بقاء کا سوال تھا۔ عمران نے دھاندلی کی مصدقہ اطلاعات ملنے کے بعد قانونی ذرائع پر انحصار کیا اور ملک میں موجود ذمہ دار اداروں سے رجوع کیا۔ چودہ ماہ ان اداروں سے انصاف مانگنے کے بعد بالآخر عمران نے عوامی عدالت کی جانب رجوع کا فیصلہ کیا۔ عمران کا موقف آپ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے سن رہے ہیں۔ میری نظر میں ان کی اکثر باتیں بالکل درست ہیں اور دل کو لگتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم بیرونی سرمایہ کار کو پاکستان کیسے بلا سکتے ہیں، جب ہمارا اپنا سرمایہ بیرونی بینکوں میں پڑا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کے بہت سے ادارے دھاندلی اور کرپشن میں حصہ دار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک میں پیش کی جانے والی ترقی حقیقی نہیں بلکہ جعلی ہے، ان کے بقول ہمارے ملک کا بچہ بچہ عالمی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، اس صورتحال میں بھلا ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے۔
عمومی طور پر عوام عمران کی باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، تاہم کچھ گروہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے عمران کے موقف کو اچھا نہیں سمجھتے۔ ان کی نظر میں عمران کو طالبان کو اچھے اور برے طالبان میں تقسیم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کے خلاف آپریشن کی حمایت کرنی چاہیے۔ ملک میں بہت سی ایسی جماعتیں ہیں جو طالبان کے حملوں کا براہ راست نشانہ بنی ہیں، جن میں پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی قابل ذکر ہیں۔ یہ جماعتیں طالبان کی ہٹ لسٹ پر ہونے کے باوجود ان سے مذاکرات کی حامی تھیں۔ انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں طے کیا کہ ہمیں طالبان کو امن کا ایک موقع دینا چاہیے۔ اس سلسلے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر پارٹی ملکی مفادات اور اپنے تحفظات کے مدنظر فیصلے کرتی ہے، جس کے لیے وہ آزاد ہے۔ ہمیں کسی بھی پارٹی کے بارے میں فیصلہ لیتے ہوئے انتہا پر نہیں پہنچ جانا چاہیے۔ مذکورہ بالا جماعتوں کے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے موقف کے تناظر میں قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ جماعتیں پرو طالبان ہیں۔ اسی طرح ہمیں عمران کے بارے میں بھی یہ نظریہ قائم نہیں کرنا چاہیے کہ وہ طالبان سے فکری ہم آہنگی رکھتے ہیں، یا ہر حال میں ان کے حمایتی ہیں۔
جہاں تک ڈاکٹر صاحب کا سوال ہے تو انہوں نے بھی ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی روش میں تبدیلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تن تنہا انقلاب کے لیے نکلنے کے بجائے اس مرتبہ ڈاکٹر صاحب کچھ ہمراہیوں کو بھی ساتھ لیے ہوئے ہیں۔ اپنی موجودہ تحریک کے آغاز سے اب تک ڈاکٹر صاحب نے اپنی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ کا ساتھ ساتھ چلنا بھی اسی مشاورت کا نتیجہ ہے۔ حکومت کی کوشش تھی کہ عمران اور ڈاکٹر صاحب کی تحریک کو فاصلے پر رکھا جائے اور ان سے الگ الگ نمٹا جائے، تاہم قادری صاحب کی مشیر جماعتیں اکٹھے نکلنے پر زور دے رہی تھیں۔ جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ اب حکومت اس بدلی ہوئی صورتحال سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے۔ دونوں قائدین اور ان کی حمایتی جماعتوں کے موقف سے تو یوں لگتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی ڈیل کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان جماعتوں کا مشترکہ ہدف موجودہ حکومت کا خاتمہ قرار پایا ہے، جس کے لیے بہرحال وہ آخری حد تک جائیں گی۔ موجودہ حکومت کے پاس اب بڑے فیصلے لینے اور قربانیاں دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا۔ ملک کی دیگر جماعتیں بھی اس سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ہمیں حکومت کے بچانے سے نہیں بلکہ جمہوریت کے تحفظ سے دلچسپی ہے۔ عملی طور پر اس وقت لیگ حکومت تنہا کھڑی ہے۔ خدا ہمارے سیاست دانوں کو ملکی مفاد میں درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وطن عزیز کو ہر قسم کی آفت سے محفوظ رکھے ۔۔۔ (یوم آزادی مبارک)
.......
/169