اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے عراق کے شہر موصل میں تکفیری گروہ داعش کے ہاتھوں عراقی خواتین پر ہونے والے تشدد کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصل میں داعش نامی دھشتگرد گروہ خواتین کو جہاد النکاح کے لیے مجبور کرتا ہے اور خواتین کی طرف سے اس ناجائز سنت کو قبول نہ کئے جانے پر انہیں زد و کوب کیا جاتا ہے۔
المیادین ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق عراق کے انسانی حقوق ادارے نے بھی موصل میں خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم سے پردہ ہٹاتے ہوئے کہا ہے کہ تکفیری گروہ داعش موصل میں کمسن اور شادی شدہ عورتوں کو بھی اپنے عناصر کے ساتھ جہاد النکاح پر مجبور کر رہا ہے اور خواتین کی طرف سے استقامت کے بعد انہیں شدید طریقے سے مارا پیٹا جاتا ہے۔
عراق کے اہل سنت کے امام جماعت شیخ حسن قادیانی نے اس سلسلے میں کہا: داعش، عراقی عورتوں کے ساتھ برے سلوک سے پیش آرہا ہے انہیں مار پیٹ رہا ہے ان کا قتل کر رہا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ ان کی سنت کا اجراء کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں، داعش کا یہ اقدام دین اسلام کے بالکل مخالف ہے۔
اطلاعات کے مطابق داعشی عناصر نے کچھ روز قبل موصل کی ۶ خواتین کو جہاد النکاح کے لیے زبردستی اغوا کر لیا تھا گزشتہ روز ان کی لاشیں واپس دی گئیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ عراق کی بعض خواتین نے داعشیوں کے ہاتھوں ان کے ساتھ زبردستی کئے گئے جہاد النکاح کے بعد خود کشی کر لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم خبر/242