2 اگست 2014 - 09:49
عراق، فوج کی کاروائی میں 150 دہشت گرد ہلاک و زخمی

مغربی الانبار کی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو فوج نے مغربی الانبار میں تین علاقوں میں کاروائی کرتے ہوئے 150 دہشت گردوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق، سکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فوج نے حدیثہ بند کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے تین جانب سے حملے کو ناکام بنا دیا جس میں 150 دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارے جانے والوں میں 9 غیر ملکی خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔  فوج کے کمانڈر فاروق الجغیفی کے سومریہ نیوز کو بتایا کہ مذکورہ چیک پوسٹ پر کل رات دہشت گردوں نے تین طرف سے حملہ کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے اس حملے میں بڑی تعداد میں کار بموں اور خودکش حملہ آوروں کا استعمال کیا تاہم سیکورٹی اہلکاوں نے بر وقت کاراوئی کرتے ہوئے ایک بڑی دہشت گردانہ کاروائی کو ناکام بنا دیا۔

جغیفی نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے پولیس اور قبائل کی مدد سے ملک کے دشمنوں کو کاری ضرب لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کاروائی میں 100 دہشت گرد مارے گئے جس میں 9 غیر ملکی اسنائپر یا نشانے باز تھے۔ ان کا کہنا تھا مارے جانے والے دہشت گردوں کی لاشیں فوج کے قبضے میں ہیں جبکہ 50 زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔

فوج کےکمانڈر کا کہنا ہے کہ علاقے پر فوج کا پورا کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا حدیثہ باند پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور اضافی سیکورٹی اہلکارں کو تعینات کیا گیا ہے۔

عراق کے حدیثہ بند کی اہمیت

عراق کا حدیثہ بند ان مقامات میں ہے جس پر قبضہ کرنا داعش کے اہم مقاصد میں سے ہے اور اس پر قبضے کے بعد گویا عراق کی گردن اس کے ہاتھ میں آ جائے گی۔ 

یہ مغربی عراق کے الانبار صوبے کے حدیثہ شہر میں دریائے فرات پر بنایا گیا ڈیم ہے اور اسے موصل ڈیم کے بعد، عراق کا دوسرا سب سے بڑا ڈیم کہا جاتا ہے۔

سال 2003 میں امریکی فوجیوں نے اس ڈیم کو فوجی چھاونی کے طور پر استعمال کیا تھا۔ اس ڈیم کی تعمیر سال 1978 میں سابق یوگوسلاویہ کے تعاون سے شروع ہوا اور سال 1986 میں ختم ہوا۔

داعش کے دہشت گرد اس اہم  ڈیم کے کچھ کیلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں لیکن عراقی حکومت نے اس علاقے میں اضافی فوجی تعینات کر دیئے ہیں تاکہ اس ڈیم پر دہشت گردوں کا قبضہ نہ ہونے پائے۔ 

داعش نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ ڈیم پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوا تو عراقی شہروں کو پانی سے بہا دے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر اس ڈیم کے دروازے کو کھول دیا جائے یا دھماکے سے اڑا دیا جائے تو موصل شہر کچھ ہی گھنٹوں میں مکمل طور پر پانی میں ڈوب جائے گا اور کئی میٹر اونچی لہریں تیزی کے ساتھ بغداد کی طرف بڑھ جائیں گی۔

اس سے پہلے فلوجہ میں داعش کے دہشت گردوں نے ایک چھوٹی سی جھیل کے پانی کو کھول کر کئی علاقوں کو غرقاب کر دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈیم، عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار کی طرح ہے اس پر قبضے سے بغداد حکومت پر بہت زیادہ دباؤ پڑ سکتا ہے اس سے پینے کا پانی تباہ کیا جا سکتا ہے اور زرعی زمینوں کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکتا ہے۔

سال 2003 میں امریکی فوجیوں نے سب سے پہلے اسی ڈیم پر قبضہ کیا تھا تاکہ صدام کی فوج اسے استعمال کرتے ہوئے عراق میں تباہی نہ مچا دے۔

اس ڈیم کی تباہی کی حالت میں پانی کا زبردست ریلا، پانچ کروڑ گیلن فی سیكنڈ کی رفتار سے آگے بڑھے گا اور کچھ گھنٹوں میں موصل شہر میں پانی کی اونچائی پچیس میٹر ہو جائے گی اور شہر کی ہر چیز ڈوب جائے گا اور اسی طرح تین دنوں کے اندر عراق کا دارالحکومت بغداد پانی میں ڈوب  جائے گا اور عراق کی 250 کیلومیٹر مربع زمین تباہ ہو جائے گی۔

دہشت گردانہ حملے

دوسری جانب عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والے کار بم کے دھماکے میں35  افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ عراق کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح مشرقی بغداد کے الحبیبیہ علاقے میں کار بم دھماکے میں کم سے کم 13  افراد ہلاک ہو گئے اور 22 دیگر زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق یہ کار بم دھماکے ایک ریستوران کے قریب ہوا۔

واضح رہے کہ جمعرات کو شمالی بغداد کے صلاح الدین صوبے میں سڑک کے کنارے نصب کئی بموں کے دھماکوں میں 4 پولیس اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح بدھ کو بغداد کے صدر سٹی میں کار بم دھماکے میں 20  افراد ہلاک اور33  زخمی ہو گئے تھے۔

.......

/169