27 جولائی 2014 - 12:14
غزہ میں سعودی عرب اور امارات کے جاسوس ڈاکٹروں کے لباس میں

سعودی عرب اور عرب امارات نے غزہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھیج پر ان کے ذریعے جاسوسی کرنے کے کوشش کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تحریک مزاحمت فلسطین "حماس" میں باخبر ذرائع سے اطلاعات پیش کی ہیں کہ سعودی عرب اور  عرب امارات نے غزہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھیج پر ان کے ذریعے جاسوسی کرنے کے کوشش کی ہے۔
غزہ کے اندر سے ان ذرائع نے "الجمہور" کے ساتھ گفتگو میں تاکید کی ہے کہ عرب امارات کے ڈاکٹروں کی ۵۰ افراد کی ٹیم کہ جو میدانی ہسپتال قائم کرنے کے بہانے مصریوں کی جانب سے بغیر کسی رکاوٹ کے غزہ کی پٹی میں داخل ہوئی تھی ایتوار کی صبح کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ایک ناگہانی اقدام کے طور پر گذر گاہ رفح کے راستے غزہ سے فرار ہو گئی اور اپنا تمام سازو سامان وہیں چھوڑ دیا ۔
اس منابع کے بقول ،امارات کی اس ظاہر میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے اس وقت غیر متوقع طور پر غزہ سے نکل جانے کا فیصلہ کیا کہ جب حماس کی سکیورٹی کی مشنری نے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ غزہ کی پٹی میں ان کی اصلی ذمہ داری ،عز الدین قسام کے برگیڈ اور میزائیل چھوڑے جانے کے ٹھکانوں کے بارے میں اطلاعات اکٹھا کرنا ،اور ان اطلاعات کو اسرائلیوں تک پہونچانا تھا ۔
اس منبع کے بقول ،حماس کی سکیورٹی ٹیم کی مفصل تحقیقات کے نتیجے میں  معلوم ہوا ہے کہ امارات کے ڈاکٹروں کی ٹیم کے کچھ افراد ابو ظبی کی سکیورٹی تنظیم کے اعلی افسر ہیں ۔
ان منابع نے یاد دلایا  کہ جب اس رسوائی کی جزئیات کو منتشر کیا گیا تو ابو ظبی والوں نے مجبورا اس رسوائی کو چھپانے کے لیے ،ابو ظبی کے ولی عھد محمد بن زاید  کے سکیورٹی کے مشیر محمد بن دحلان کے ذریعے رہبران حماس کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار کیا ۔
اس بنا پر جنبش حماس کے ایک قریبی منبع نے الجمہور کے خبری مرکز کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا:دحلان اور دحلان کے قریبی جنبش فتح کے کچھ رہنماوں  نے اس رسوائی کو روکنے کے لیے حماس کے رہنماوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا ہے ۔
ایک اور منبع نے مزید کہا :سفیان ابو زایدہ،  دحلان کے قریبی اور تحریک فتح کے ایک اعلی کارکن نے جنبش حماس کے رہنماوں سے رابطہ کر کے ان سے خواہش کی ہے کہ امارات کی ہلال احمر کی ٹیم کے ماجرا کی جزئیات سے پردہ نہ اٹھائے ۔

تحریک حماس کے مرحوم رہنما عبد العزیز الرنتیسی کے فرزند براء الرنتیسی  نے ان معلومات کے درست ہونے کی تائید کی کہ جو مرکز الجمہور نے امارات کی رسوائی کے بارے میں حاصل کی ہیں وہ درست ہیں اور انہوں نے کہا :مقاومت فلسطین نے امارات کے ایک جاسوسی کے چینل کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں ،چنانچہ امارات کے بظاہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے غزہ میں اپنے مربوط افراد کی طرف سے خطرے کا اشارہ ملتے ہی اس علاقے کو چھوڑ دیا ۔
انہوں نے مزید کہا :ہم مطمئن ہو گئے کہ امارات کی ٹیم ایک جاسوسی ٹیم تھی کہ جن کو عبد الفتاح السیسی نے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی تا کہ صہیونی حکومت کے لیے مقاومت اور میزائل چھوڑنے کے اڈوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرے ۔
حماس کے ایک قریبی سیاسی تجزیہ نگار اور قلمکار کا کہنا ہے :حماس اور مقاومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ غاصبوں اور ان کے عربی اور مغربی حامیوں کے خلاف میدان عمل میں کود پڑیں گے ۔
انہوں نے یاد دلایا : اس بار حماس کی کاروائی پہلے سے بالکل مختلف ہے اس لیے کہ اس نے قاہرہ کے سفیر کی دعوت کو قبول نہیں کیا ہے،غزہ میں امارات کے جاسوسی کردار سے پردہ اٹھایا ہے اور جنگ بندی کے سلسلے میں مقاومت اپنے شرائط کے مانے جانے پر مصر ہے ۔
غزہ کی پٹی میں ایسے ہی ایک منبع نے الجمہور سے کہا : دیر البلح میں الاقصی ہسپتال کے پاس امارات کی ٹیم کا ایک ہسپتال کھولنے کا مقصد صہیونی حکومت کے لیے ایک بہت بڑا جاسوسی کا اڈہ قائم کرنا تھا ۔
اکثر فلسطینی ذرائع نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ تحریک جہاد اسلامی فلسطین کی قدس نام کی بٹالینوں نے قسام کی بٹالینوں کو خبر دی کہ ایک فلسطینی شہری نے ان سے کہا ہے کہ امارات کی ہلال احمر کی ٹیم کا ایک آدمی مقاومت کے میزائلوں کے بارے میں اطلاعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے کوشش کی کہ فلسطینی شہریوں سے اس سلسلے میں ٹھوس اطلاعات دریافت کرے ،یہ جاننے کے بعد فلسطینیوں نے اپنا کام شروع کیا ۔
فلسطینی مقاومت کے میزائل چھوڑے جانے کے مقامات کے بارے میں اطلاع حاصل کرنا صہیونی حکومت کے لیے خاص کر اس وقت سے کہ جب سے حماس نے بہت سارے جاسوسوں کو پکڑ کر موت کے گھاٹ اتارا ہے بہت اہمیت رکھتا ہے ،صہیونی روز نامے ھا آرتص کی تحریر کے مطابق غاصب حکومت اس وقت غزہ کے بارے میں اطلاعات کی کمی کے صدمے سے دوچار ہے ۔
سایٹ الجمہور نے تصریح کی : اطلاعات کے کم ہونے اور قسام کے اچانک حملے کرنے اور ان کی ٹکنیکی صلاحیت کے زیادہ ہونے نے صہیونے حکومت کے نظامی اور سیکیوریٹی کے افراد کو زبر دست پریشان کر رکھا ہے ،یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکام نے اپنے دوست عربی ملکوں کا ہاتھ تھاما ہے  تا کہ اس سلسلے میں وہ اس کی مدد کریں ۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲