ابنا: رپورٹ کے مطابق اسلامی جموریۂ ایران کے صدر نے کل رات علماء کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ علماء کرام اور جو بزرگ حضرات حوزۂ علمیہ کے تربیت یافتہ ہیں ، انقلاب کے بعد ان کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داریاں ہے۔ صدر مملکت نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حکومت میں سرفہرست اوربلند وبالا مقام و منزلت، ولایت فقیہ کو حاصل ہے کہا کہ حکومت نے مقننہ ، عدلیہ اور رہبر انقلاب اسلامی، کہ جو ان پر نگراں ہيں ، کے ہمراہ، معیشت ، داخلہ اور خارجہ پالیسی ، ثقافتی ، سماجی اور سکورٹی کے مسائل کے بارے میں امید افزا قدم اٹھائےہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ثقافت اوراسلامی انقلاب اور اسی طرح اتحاد و یکجہتی کے سائے میں ہم تمام مشکلات سے عبور کرسکتے ہیں ۔ صدر مملکت نے غزہ ميں جاری اسرائیلی جارحیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بربریت کے مقابلے میں فلسطین اور غزہ کے عوام کی استقامت کی ایک وجہ، ایران کے اسلامی انقلاب کو آئیڈیل قرار دینا ہے ۔ ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ گذشتہ بیس دنوں سے غزہ کے نہتے اور مظلوم عوام پر مسلسل آگ برسائی جارہی ہے اور غزہ کے مسلمان عوام نے بھی ان حملوں کے جواب میں اسرائیل کے مرکز تل ابیب پر میزائیل داغے جس کے باعث اس شہر کا ایئر پورٹ بند ہوگیا اور پروازیں منسوخ ہوگئیں اور چالیس لاکھ افراد پناہ گاہوں میں چلے گئے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ اگر چہ غزہ کے عوام اب تک ایک ہزار سے زائد شہید دے چکے ہيں اور چھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوچکے ہیں پھر بھی ان کے عزم و حوصلے میں کوئی فرق نہیں آيا ہے اور یہ چیز اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے ان کے بلند وبالا عزم و ارادے کی غماز ہے ۔
.......
/169