24 جولائی 2014 - 14:46
رات قیامت کی تھی،غزہ میں موجود خاتون کے اپنے دوست کو پیغامات

غزہ میں توپوں کی گھن گرج ، گولیوں کی بوچھاڑ اور ٹینکوں کی آوازوں میں دبی زندگی کیسے گزررہی ہے اورلوگوں کو جان بچانے کےلیے کیا کچھ کوششیں کرنی پڑرہی ہیں ، اس کی مثال غزہ کی رہائشی ایک خاتون کی ایک دن کی روداد ہے جو اس نے سماجی ویب سائٹ پر پیش کی ہے۔

ابنا: غزہ .....غزہ میں توپوں کی گھن گرج ، گولیوں کی بوچھاڑ اور ٹینکوں کی آوازوں میں دبی زندگی کیسے گزررہی ہے اورلوگوں کو جان بچانے کےلیے کیا کچھ کوششیں کرنی پڑرہی ہیں ، اس کی مثال غزہ کی رہائشی ایک خاتون کی ایک دن کی روداد ہے جو اس نے سماجی ویب سائٹ پر پیش کی ہے۔ غزہ میں زندگی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتی جارہی ہے ، اسرائیلی فوج کے کسی بھی حملے سے بچنے کےلیے صرف موت کی سی خاموشی کرنا کافی نہیں ، گھروں ميں چھپے بےبس اور نہتےلوگوں کا سانس روکے رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے ، کہیں ان کی سانس کی آواز سے کسی کو بھنک نہ پڑ جائے ، دو چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک گھر میں پناہ لیے ہوئے غزہ کی ایک خاتون نےسماجی ویب سائٹ پر ایک دن کی روداد پوسٹ کی ہے۔عدیم لکھتی ہے ، صبح بخیر میرے عزیزو ، گذشتہ رات قیامت کی رات تھی ،ابھی صبح کے سات بجے ہيں اور تین ایف سولہ ہماری عمارت کےاردگرد چکر لگارہےہيں ، ان میں سے آخری کی آواز اتنی قریب تھی کہ گویا عمارت زلزلےسے کانپ اٹھی ہو۔عدیم کو اس کے دوستوں نے کہاکہ صبح دس بجے سیز فائر کااعلان ہوا ہے،اگر سیز فائر ہوتا تو وہ اس تک پہنچنے کی کوشش کریں گے،لیکن عدیم نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہکیا آپ جانتے ہیں کہ میں کہاں موجود ہوں ،میرے والد ابھی بھی اس جگہ کوچھوڑنے سے انکاری ہیں ، لیکن میری والدہ ان حملوں سے شدید تکلیف میں ہیں اوران کا بلڈ پریشر ہائی ہوچکاہے ۔اب صبح کے دس بج چکے ہیں اور جو فرق محسوس ہوا ہے وہ یہ کہ جہازوں کی بمباری میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور پھر یہ الفاظ سامنے آئے کہ اسرائیل نے پانچ گھنٹے کی سیز فائر سے انکارکردیا ہے۔ عدیم کے دوستوں نے بتایا کہ انہوں نے عدیم کی صورتحال سوشل ویب سائٹ پر نشر کی ہے جس پر عدیم کا جواب تھا، ہر ایک کا میری طر ف سے شکریہ، انہيں بتائيں کہ ان کی سپورٹ اور دعائيں ہمیں مضبوط بنارہی ہیں۔ عدیم کچھ دیر بعد پھر لکھتی ہے کہ میں بین الاقوامی برادری کی بے حسی پر بہت پریشان ہوں اور ان کا ردعمل ایسا کہ جیسے غزہ اس زمین کا حصہ ہی نہیں۔

.......

/169