ابنا: عراقی وزارت دفاع کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ الدلیمی، روسی صدر ولادیمیر پوتین کے نام عراقی وزیراعظم نوری مالکی کاخط بھی لےگئے ہيں۔کہا جارہا ہے کہ اس خط میں نوری مالکی نے عراق کی سیاسی و سیکورٹی کی صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے بغداد ماسکو کے درمیان فوجی تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی ہے۔
عراق اس وقت حساس صورت حال سےگذر رہا ہے۔ ایک طرف وہ حکومت کی تشکیل اور اہم عہدوں کے تعین کے لئے صلاح و مشورے میں سرگرم ہے اور دوسری جانب بعض مغربی اور شمالی علاقوں میں دہشتگرد گروہوں کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ ان مسائل پرقابو پانے کےلئے بعض داخلی گروہوں اور بیرونی فریقوں کا ساتھ ضروری ہے۔
اگرچہ تشکیل حکومت کے مسئلے میں، مرکزی کردار، اندرون ملک سیاسی گروہی کے درمیان صلاح و مشورہ کو حاصل ہے لیکن سیکورٹی مسائل اور دہشتگردانہ جھڑپوں کے معاملے میں عراق، بعض علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں سے مدد کی بھی امید لگائے ہوئے ہے۔کیونکہ عراق میں بدامنی سے متعلق موضوعات کا تعلق بعض مغربی اور عرب ممالک سے بھی ہے اور عراق کو اپنے سیکورٹی مسائل پر قابو پانے کےلئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔
روس چونکہ پہلے بھی عراق کو فوجی مدد فراہم کرتا رہا ہے اور علاقے میں امریکہ کا رقیب بھی سمجھا جاتا ہے لہذا موجودہ حساس حالات میں اس کا روس کی جانب مائل ہونا بلاسبب نہيں ہے۔
بالخصوص ایسے عالم میں کہ جب داعش نے عراق کے بعض علاقوں پر اپنے حملے شروع کئے تو ماسکو نے بغداد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور عراق کی مدد کے لئے اپنے مشیروں کو بھیجاہے۔ اس وقت روس کے کئی جنگی جہاز داعش کے خلاف جنگ میں عراقی فوج کی مدد کررہے ہيں۔
عراقی پارلیمنٹ کے سیکورٹی کمیشن کے رکن عباس البیاتی نے اعلان کیا ہے کہ روس نے عراق کو دس سوخو جنگی طیارے دیئے ہيں۔ انھوں نے کہا کہ یہ اقدام عراقی فورسز کی فوجی صلاحیت بڑھانے کے لئے اٹھایاگیا ہے۔
روس نے اپنے جنگی طیارے ایسے عالم میں عراق کے حوالے کئے ہيں کہ امریکہ نے جنگي طیارے اور دوسرے فوجی ساز و سامان دینے کے سلسلے میں عراق کے ساتھ اپنے سیکورٹی معاہدے پر عمل نہيں کیا ہے لہذا عراق، امریکہ کے اس دھوکے کی تلافی کے لئے روس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ روس جوحالیہ برسوں میں بعض عرب ملکوں میں دہشتگردگروہوں کے دہشتگردانہ اقدامات اور شام سے متعلق مسائل میں امریکہ کے مدمقابل رہا ہے، اس وقت واشنگٹن کی سرزنش کےلئے عراقی فوج کو مسلح کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
بالخصوص ایسے عالم میں کہ عراق میں امریکہ کی نسبت روس کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں کم حساسیت پائي جاتی ہے اور یہ روسیوں کے لئے ایک مثبت پہلو ہے اور یوں وہ موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عراق میں فوج سے متعلق امور میں اپنا خاص مقام بناسکتاہے۔
.......
/169