19 جولائی 2014 - 21:08
سرینگر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج، سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، ایک جوان جانبحق+تصاویر

محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں ہونے والے ظلم و ستم پر عوام کا غم و غصہ قابل فہم ہے اور نہتے پرامن شہریوں پر کی جانے والی اس ننگی جارحیت کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ۔ فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر دنیا اور خاص کر مسلم حکمرانوں کی خاموشی کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے شہر سرینگر میں حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے اسرائیل کا عالمی سطح پر معاشی مقاطعہ کرنے کی مانگ کی ہے، جامع مسجد سرینگر کے باہر احتجاجی دھرنے میں موجود سینکڑوں نفوس سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ عمر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین کی سنگین صورتحال غزہ میں نہتے شہریوں کے قتل عام سے چشم پوشی کے بجائے اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لئے اس کا مکمل اقتصادی بائیکاٹ کرے، میرواعظ عمر فاروق نے فلسطین کے مسئلہ پر اسلامی ممالک کے رویے کو اسرائیل کی حمایت کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف وہاں کے عوام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ کا عالم اسلام کے ساتھ زبردست جذباتی وابستگی موجود ہے اور اس حوالے سے اسلامی ممالک کو خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اسرائیل کے خلاف ایک ٹھوس اور منظم پالیسی کے ساتھ آگے آنا چاہئے جبکہ اس سے قبل مرکزی جامع مسجد میں حریت کانفرنس (م) چیئرمین نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم غزہ میں نہتے لوگوں معصوم بچوں اور عورتوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ ’’نام‘‘ اور ’’او آئی سی‘‘ اور دیگر انصاف پسند ممالک کی مجرمانہ خاموشی کو حد درجہ افسوسناک قرار دیا۔

فلسطین کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف جموں و کشمیر کے شہر سرینگر میں جمعہ بعد از نماز مظاہرین پر گولی چلانے کے واقعے کے بعد آج ایک بار پھر بھارتی فورسز نے مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک نویں جماعت میں زیر تعلیم ایک کمسن لڑکے کی موت واقع ہوئی جس کے بعد وہاں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور پورے علاقے میں جلوس نکالے گئے، یہ واقعہ پیش آنے کے بعد اننت ناگ قصبے میں مظاہرین اور فورسز کے مابین پرتشدد جھڑپوں کا آغاز ہوا جو تا دیر جاری تھا، دریں اثناء حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے 20 جولائی اتوار کو ضلع کولگام میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کیموہ، کھڈونی اور ریڈونی میں جس وقت پتھراؤ ہورہا تھا اُس وقت مذکورہ نوجوان پتھراؤ کرنے والوں میں شامل نہیں تھا بلکہ قابض فورسز نے جب فائرنگ کی تو تین نوجوان زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی موت اننت ناگ ضلع اسپتال میں ہوئی، جاں بحق سہیل احمد نویں جماعت میں زیر تعلیم تھا، اس ہلاکت کے فوراً بعد اس پورے علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے اور لوگ بندشیں توڑ کر اپنے گھروں سے باہر آگئے اور احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوئے۔  درایں اثناء پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے پریس کے لئے جاری ایک بیان میں مرحوم کے لئے دعائے مغفرفت کرتے ہوئے غمزدہ کنبہ کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی ہے، نوجوانوں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ غزہ پٹی میں ہونے والے ظلم و ستم پر عوام کا غم و غصہ قابل فہم ہے اور نہتے پرامن شہریوں پر کی جانے والی اس ننگی جارحیت کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، محبوبہ مفتی نے کہا کہ فلسطینیوں کے تئیں پرامن طریقہ سے جہاں بھی اظہار یکجہتی کیا جارہا ہے اس کا احترام کیا جانا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲