اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فارس نیوز کے مطابق روسی صدر نے برازیل میں بریکس سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ عالمی مسائل حل کرنے کے لئے ملکوں کا باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے دنیا کے ترقیاتی مسائل کے تعلق سے بریکس ملکوں کے متحدہ موقف نیز عالمی سطح پر مالی اور اقتصادی نظاموں میں اصلاحات کی ضرورت پر تاکید کی۔ انہوں نے بریکس کے رکن ملکوں سے کہا کہ وہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات کو واضح کردے گا اور ان کی معاشی ترقی میں تیزی آنے کا سبب بنے گا۔ صدر پوتین نے تجویز دی کہ بریکس ملکوں کو انرجی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے انرجی یونین، ترقیاتی بینک، اور انرجی کے شعبے میں پالیسی ساز مرکز بنا کر ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔
دریں اثنا ونزويلا کے صدر نیکولس مادورو نے کہا ہے کہ بریکس سربراہی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے اکیسویں صدی کا رخ بدل جائے گا۔ ا نہوں نے کہا کہ بریکس سربراہوں نے نہایت اہم اقدامات کئے ہیں جن سے دنیا میں سیاسی اور اقتصادی قوانین میں تبدیلی آ جائے گي۔ انہوں نے کہاکہ بریکس کا بینک ایک سو ارب ڈالر کے ابتدائي سرماے سے کام شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بریکس کے سربراہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ رکن ممالک ایک تجارتی اور اقتصادی سسٹم قائم کریں گے جس میں ڈالر کے بجائے رکن ملکوں کی کرنسی استعمال کی جائے گي۔
واضح رہے بریکس سربراہی اجلاس گذشتہ روز سے برازیل میں شروع ہوا ہے۔ بریکس میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲