ابنا: ذرائع کے مطابق فوجی یونیفارم میں یہ اضافہ اس وقت اپنے عروج کو پہنچا جب آیت اللہ علی العظمیٰ سیستانی نے ملک بھر کے نوجوانوں سے داعش کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کی تیاری کا حکم دیا۔ ان کی اپیل پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان فوج میں رضاکارانہ خدمات پر آمادہ ہوئے لیکن حکومت کیلئے بڑی تعداد میں وردیاں تیار نہیں تھیں جس پر جہاد کے خواہشمند افراد نے خود ہی وردیاں تیار کرانا شروع کردیں ۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ بدامنی کی لپیٹ میں آئے عراق میں درجنوں عسکریت پسند گروپ مصروف عمل ہیں۔ یہ عسکری گروپ مارکیٹ سے فوج اور پولیس کی وردیاں خرید کرتے ہیں اور فوج کی آڑ میں شہریوں کے گھروں پر رات کے اوقات میں چھاپے مارتے، فوجی چھاونیوں پر حملے کرتے اور لوٹ مار کرتے ہیں۔
.......
/169