ابنا: افغانستان میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور منگل کو ایک صدارتی اُمیدوار عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کی برتری کو مسترد کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا دعویٰ کر دیا۔
کابل میں منگل کو اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ ہم انتخاب کے اس مرحلے میں جیت گئے ہیں‘‘۔
افغانستان کے خود مختار الیکشن کمیشن نے پیر کو ابتدائی نتائج کا اعلان کیا تھا جن کے مطابق اشرف غنی 56.44 فیصد ووٹ لے کر عبداللہ عبداللہ سے آگے ہیں۔ عبد اللہ عبداللہ کو صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں 43.56 فیصد ووٹ ملے۔
عبداللہ عبداللہ کے حامیوں نے نتائج کو یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ گنتی میں جعلی ووٹوں کو خارج نہیں کیا گیا۔
تاہم عبداللہ عبداللہ نے متوازی حکومت بنانے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا جیسا کہ پہلے توقع کی جا رہی تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ ہم خانہ جنگی یا بحران نہیں چاہتے، بلکہ استحکام اور قومی یکجہتی چاہتے ہیں۔
عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ابتدائی نتائج کا اعلان اُس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔
صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ کو لگ بھگ 45 فیصد جب کہ اشرف غنی کو 33 فیصد ووٹ ملے تھے۔
افغان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج کا اعلان 22 جولائی کو کیا جائے گا۔
طالبان کی دھمکیوں کے باوجود صدارتی انتخابات کے دوران بڑی تعداد میں افغانوں کی جانب سے اپنے حق رائے دہی کے استعمال کو ملک میں پرامن انتقال اقتدار کے لیے اہم قرار دیا جا رہا تھا۔
.......
/169