اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکفیری ٹولے داعش کے ایک سرغنہ جسے عراقی فوج نے زندہ گرفتار کیا ہے نے کہا ہے کہ اسلامی حکومت اگر بغداد پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو سب سے پہلے اہل سنت، اہل تشیع، کردوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو نابود کرے گی۔ اسلامی خلافت کی تشکیل کا مقصد بغداد کو دار الحکومت قرار دینا ہے اور اس حکومت کی تشکیل کے بعد بت پرستی اور شرک کے تمام مراکز کو مسمار کر دیا جائے گا۔
اس تکفیری شخص نے اس سوال کے جواب میں کہ تم لوگ کیسے شرک اور بت پرستی کا دعوی کرتے ہو جبکہ بغداد سے اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی؟ کہا: بغداد میں شرک کا پہلا مرکز کاظمین قبر (امام) کاظم (ع) ہے اور دوسرا قبر ابو حنفیہ نعمان ہے۔
اس نے اس سوال کے جواب میں کہ ابو حنیفہ تو مسلمانوں کے ایک امام ہیں کہا: ایسا نہیں ہے وہ بدعت گزاروں کا امام ہے جو شخص شیخ محمد عبد الوہاب کا پیروکار نہیں وہ ہماری نظر میں کافر ہے۔
داعش کے اس سرغنے نے کہا: شیعہ اور سنی سب کافر ہیں مگر یہ کہ توبہ کر لیں اور ابو عمر البغدادی کی بیعت کر لیں۔ اگر ایسا نہ کیا تو اسلامی حکومت تمام شیعہ سنی، عیسائی، کردی وغیرہ وغیرہ سب کا قتل عام کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲