ابنا: فائر بندی ختم ہونے کے بعد مشرقی یوکرین میں جھڑپوں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا ہے۔ اس سے قبل یوکرین کے صدر پترو پوروشنکو نے کل اعلان کیا تھا کہ فائر بندی کی مدّت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔مشرقی یوکرین کے شہر دونتسک کے علاقوں سے مارٹر گولوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔کارلوفکا کے قریب ٹینکوں کی گولہ باری جاری ہے جب کہ مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک میں ایک مینی بس پر ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب لوہانسک میں مخالفین کے ترجمان ولادیمیر اینوگورودسکی نے دعوی کیا ہے کہ کل یوکرین کی فوج نے لوہانسک میں سوخوئی طیاروں سے بمباری کی جن کو اینٹی ایر کرافٹ گنوں سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گيا جن میں دو کو مار گرایا گیا تاہم تین دیگر بمباری کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔قابل ذکر ہے کہ یوکرین کے صدر نے کل فوج کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مخالفین کے ٹھکانوں پر حملے کرے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے یوکرین میں فائر بندی کا نفاذ ختم اور دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے مشرقی یوکرین میں روس کے طرفدار مسلح مخالفین سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل بھی کی ہے۔بان کی مون نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
.......
/169