2 جولائی 2014 - 11:40
کیاداعش کے دہشت گرد مسلمان ہیں؟

داعش کے نام سے جانی جانے والی دہشتگرد تکفیری تنظیم نے اپنے جاری آڈیو پیغام میں اپنے زیر تسلط علاقوں میں خلافت کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: داعش کے نام سے جانی جانے والی دہشتگرد تکفیری تنظیم نے اپنے جاری آڈیو پیغام میں اپنے زیر تسلط علاقوں میں خلافت کا اعلان کیا ہے۔ پیغام میں داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو دنیا بھر کے مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا گیا ہے جبکہ اسی دہشتگرد تکفیری گروہ نے آج پھر سامرا میں حرم مطہر پر راکٹ برسائے جس میں ایک شہری شہید اور 23 زخمی ہوئے تاہم صوبۂ دیالہ میں عراقی سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں ام الکرامی ، الطالعہ اورالبطاط کو دہشتگردوں سے آزاد کرانے کے ساتھ ساتھ چھ دہشتگردوں کوہلاک کر دیا گیا۔ اس موضوع پر ہمارے ساتھی نے پاکستان کے اہلسنت عالم دین اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما قاضی احمد نورانی سے گفتگو کی اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ داعش نے ایک بار پھر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور خلافت کا اعلان کیا۔ کس کے اشارے پر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اورعراق میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا۔
قاضی احمد نورانی کا انٹرویو سننے کے لیے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجیے
جس طرح ابھی اپنی گفتگو میں علامہ قاضی احمد نورانی نے کہا کہ تکفیری گروہ داعش کا تعلق خوارج سے ہے اور وہ گریٹر اسرائيل کے منصوبے پرعمل پیرا ہے۔
بلاشک عالم اسلام کے خلاف عالمی استکباری طاقتیں مختلف قسم کی سازشوں میں مصروف ہیں اور اب داعش کی جانب سے خلافت کا اعلان اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی بہت بڑی اور گھناؤنی سازش ہے جسے شیعہ اور سنی علماء کرام کو مل کر ناکام بنانا چاہیے۔ اسی جانب رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے واضح اور آشکار ثبوت وشواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق جیسے بعض اسلامی ممالک میں دشمن کی خبیث جاسوس ایجنسیاں ملوث ہیں اور موجودہ حساس دور میں اسلام کے خلاف نبرد آزما مختلف طاقتیں اپنے مفادات کو خطرے میں دیکھ رہی ہیں لہذا انہوں نے مختلف سازشوں کے ذریعے حقیقی اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ اسلام کی نورانی تعلیمات، مختلف معاشروں میں نافذ نہ ہوسکیں ۔
جی ہاں اسلام مخالف طاقتیں اسلام کو مختلف چیلنجوں سے دوچار کرنے کے لئے اسلام کے نام اور اسلامی تعلیمات کے احیاء کے بہانے مختلف گمراہ گروہوں کواسلام کے روپ میں سامنے لے کر آئي ہیں اورانہیں مضبوط کیا ہے حالانکہ اب یہ بات سب پر واضح ہو رہی ہے کہ ان کے پیچھے عالمی استکباری قوتیں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں اور موجودہ زمینی حقائق پراگر ہم غور کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ بیرونی مداخلت اور اسلام دشمن گروہوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے نتیجے میں اس وقت گمراہ مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کا ہی خون بہانے میں مصروف ہے۔ اور داعش سے وابستہ اور پٹھو دہشت گرد اس قدر وحشی اور درندے ہیں کہ مقدس مقامات کی بے حرمتی، خواتین کی عزت لوٹنا، عام انسانوں کی قتل و غارت، مساجد اور کلیساوں کو جلانا، مسلمانوں کے املاک کی لوٹ مار اور اموال کی تخریب جیسے اقدامات ڈھٹائی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔اور یہ تمام اقدامات وہ وحشیانہ جرائم ہیں جو جاہلیت کے دور کی یاد کر دیتے ہیں اور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ خوارج مسلمان نہیں بلکہ خوارج کی تازہ شکل ہیں۔

.......

/169