29 جون 2014 - 21:13
داعش کے خوف سے سعودی بادشاہ نے ہنگامی کیبنٹ میٹنگ بلا لی+ تصاویر

اس میٹنگ میں ملک عبد اللہ نے کہا: ہم دھشتگردوں کی تمام انواع و اقسام کے مخالف ہیں اور ہر گز اجازت نہیں دیں گے کہ دھشتگرد دین مبین اسلام کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کریں۔

اہل بیت(ع) ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کے بادشاہ ملک عبد اللہ نے گزشتہ شب دھشتگردوں سے مقابلہ کرنے کے لیے کیبنٹ کے افراد کی ہنگامی میٹنگ بلائی جس میں لبنان کے تحریک ’’المستقل‘‘ کے سربراہ سعد حریری بھی شامل تھے۔
اس میٹنگ میں ملک عبد اللہ نے کہا: ہم دھشتگردوں کی تمام انواع و اقسام کے مخالف ہیں اور ہر گز اجازت نہیں دیں گے کہ دھشتگرد دین مبین اسلام کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کریں۔
بظاہر گزشتہ شب کی ہنگامی میٹنگ ماہ رمضان کی مناسبت سے تھی لیکن باطنی طور پر عراق کے صوبہ الانبار سے دھشتگردوں کے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں داخل ہونے کی وجہ سے یہ ہنگای میٹنگ بلائی گئی تھی۔
ملک عبد اللہ نے اس میٹنگ میں کہا کہ ہم پورے عزم و ارادے اور لوگوں کی مدد کے ساتھ دھشتگردوں کو ملک سے باہر نکال دیں گے۔
واضح رہے کہ عراق میں داعش کے بھیانک جرائم شروع ہوتے ہی اس ملک کے وزیر اعظم نوری مالکی نے کہا تھا کہ عراق میں داعش کو مادی و معنوی خوراک پہنچانے والا سعودی عرب ہے جو اس گروہ کی ہر اعتبار سے حمایت کرتا ہے۔
نیز سعودی عرب سے چھپنے والے جرمنی کے اخبار اور خلیج فارس کے بعض اخباروں نے متعدد بار یہ لکھا ہے کہ داعش نامی دھشتگرد گروہ کی مالی مدد کرنے والا اہم ترین ملک سعودی عرب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲