28 جون 2014 - 12:55
عراق پر امریکی طیاروں کی پروازیں شروع

پینٹاگن کا کہنا ہے کہ عراق پر امریکی طیاروں کی پروازیں شروع ہو گئی ہیں۔

ابنا: امریکی وزارت دفاع پینٹاگن کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ عراق حکومت کی درخواست پر عراق میں امریکا کے جاسوس اور غیر جاسوسی سمیت متعدد طیاروں کی پروازیں جاری رہیں گی. جان كربي نے کہا کہ ان طیاروں میں سے کچھ مسلح بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارا مقصد، امریکی مشیروں کی حفاظت ہے جو سفارت خانے کے باہر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان طیاروں کو ہوائی حملوں کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ 

پینٹاگون کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کے فوجی افسران، واشنگٹن کی نئی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔
امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ہیل فائرمیزائلوں سے لیس امریکی ڈرون طیارے بغداد کے دارالحکومت پر پرواز بھر رہے ہیں اور ان کا مقصد، امریکی فوجیوں اور سفارت کاروں کی حفاظت ہے۔

جمعہ کو امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلی اہلکار نے بتایا ہے کہ ڈرون طیاروں کی پرواز کا ایک مقصد اپنے فوجیوں کی حفاظت ہے لیکن اس کے ساتھ ایک قسم کی تیاری بھی ہے کیونکہ امریکی صدر باراک اوباما کسی بھی وقت کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں۔

اہلکار نے کہا کہ عراق میں ہمارے طیارے پرواز بھر رہے ہیں اور اگر ان میں سے کچھ ہتھیاروں سے لیس ہیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ان کا استعمال بھی کرنے جا رہے ہیں کیونکہ ابھی تک امریکی صدر باراک اوباما نے کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔

یاد رہے امریکا نے عراق پر دباؤ ڈال کر بغداد - واشگٹن سیکورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد مختلف شعبوں خاص طور فوجی شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون تھا لیکن امریکہ، عراق کو وہ ایف سولہ طیارے دینے میں بھی ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے جس کا سودا ہو چکا ہے۔
عراق نے امریکا کی ٹال مٹول کی وجہ سے روس سے سوخوئی طیارے خریدے ہیں اور عراقی وزیر اعظم نوری مالكي نے کہا ہے کہ ان طیاروں کو داعش کے خلاف کارروائی میں استعمال کیا جائے گا۔

.....

/169