24 جون 2014 - 13:39
عراق کا بحران شام میں دھشتگردوں کو حاصل  امریکی حمایت کا نتیجہ ہے: امریکی سینیٹر

ایک بلند پایہ امریکی سینیٹر نے اپنے ملک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے مشرق وسطی میں اور خاص کر شام میں، عراق کے موجودہ بحران کو امریکہ کی داعش کی حمایت کرنے کا نتیجہ قرار دیا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔: نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ،ایک جمہوری خواہ سینیٹر نے امریکہ کی غلط پالیسیوں اور شام کے بحران میں حد سے زیادہ مداخلت کو ،مشرق وسطی کے دہشت گردوں کے لیے ایک مناسب ٹھکانے کے وجود میں آنے اور شمال عراق میں افراتفری کے وجود میں آنے کا سب سے بڑا سبب قرار دیا ۔

امریکی نیوز چینل سی این این کو انٹرویو کے دوران اس نے داعش کے تقویت پانے کی وجہ شام میں اس گروہ کے اتحادیوں کو امریکی ہتھیاروں کی سپلائی قرار دیا اور کہا :داعش شام میں ہمارا اتحادی تھا ۔ہم نے دمشق کی حکومت کی وفا دار فوجوں کو پیچھے بھگانے کے لیے نیم فوجی دستوں کو ہتھیار دیے اور شام میں ان کے لیے ایک محفوظ ٹھکانا بنایا ؛میری نظر میں شام میں ہماری مداخلت عراق کے موجودہ حالات کی وجہ بنی ۔

پاول نے اپنی بات جاری رکھی : اگر ہم نے شام میں داعش کے اتحادیوں کو ہتھیار نہ دیے ہوتے اور ان کے لیے محفوظ ٹھکانہ نہ بنیایا ہوتا تو اس وقت وہ عراق میں طاقتور نہ ہوتے ۔

انہوں نے مزید کہا : ہم شام کی جنگ میں داعش کے اتحادی تھے اور در حقیقت بشار اسد کے خلاف جنگ میں اس گروہ کی صف میں تھے،اب ہم عراق میں اس کے مقابلے پر آ رہے ہیں جو شام میں ہمارا اتحادی تھا ؟اور یہ ایک تناقض ہے

 امریکی سینیٹر نے مزید کہا :میرے اعتقاد میں اس وقت مشرق وسطی میں ایک افراتفری کا عالم ہے۔اور اس کی دلیل بھی یہ ہے کہ ہم نے ایک خلاء پیدا کر دیا ہے ۔

پاول نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے امریکہ کے عراق میں داخل ہونے پر تنقید کرتے ہوئے کہا :عراق کی جنگ سے پہلے ،ہزار سال سے زیادہ عرصے سے اس علاقے میں شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف پایا جاتا تھا ،لیکن اس ملک میں ہمارے جانے کی وجہ سے ایک ایسا خلاء وجود میں آ گیا کہ جس نے علاقے میں گروہ داعش کی کاروائیوں کے لیے مناسب فضاء پیدا کر دی ۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں امریکہ کے صدر باراک اوباما  اور کانگریس میں اپنی پارٹی کے بہت سارے ارکان پر بشار اسد کی حکومت کو گرانے کی شدید خواہش اور حمایت کے سلسلے میں تنقید کی اور کہا :اگر بشار اسد کے شر سے نجات پانا ضروری تھا تو شام تکفیری جہادی گروہوں کی کارکردگیوں کے لیےخالص سر زمین میں تبدیل ہو جاتا ۔یہ حالات ہمارے لیے مناسب اور مطلوب نہیں ہیں ،عراق کے موجودہ حالات بھی شام کے حالات میں ہماری حد سے زیادہ مداخلت کا نتیجہ ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲