ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کي عدليہ کے سربراہ اور اراکين نے اتوار کو تہران ميں قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي سے ملاقات کي -
قائد انقلاب اسلامي نے اس موقع پر اپنے خطاب ميں عدليہ کي خدمات کو سراہتے ہوئے فرمايا کہ تسلط پسند طاقتيں ايران کے اسلامي نظام کي اس لئے مخالفت کرتي ہيں کہ اس نظام نے تسلط پسندي کي بنياديں کمزور کردي ہيں
-
قائدانقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے اپنے خطاب ميں عراق کے حالات کا ذکرکرتے ہوئے فرمايا کہ عراق کے واقعات ميں مغرب کي تسلط پسندطاقتيں اور ان ميں سرفہرست امريکا بعض جاہل اور بے اختيار متعصب عناصر سے غلط فائدہ اٹھانے کي کوشش کررہا ہے
-
آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا کہ عراق کے حاليہ واقعات کا اصل مقصد عراقي عوام کو ان ثمرات اور کاميابيوں سے محروم کرنا ہے جو انہوں نے امريکا کي مداخلت کے باوجود حاصل کي ہيں اور ان کاميابيوں ميں سب سے اہم کاميابي جمہوري بنيادوں پر حکومت کا قيام ہے
-
قائد انقلاب اسلامي نے امريکي حکام کے بيانات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے جن ميں ان کي کوشش ہوتي ہے کہ عراق کے واقعات کو مذہبي اور فرقہ وارانہ جنگ بناکے پيش کريں، فرمايا کہ جو کچھ عراق ميں ہورہا ہے وہ شيعہ اور سني کي جنگ نہيں ہے بلکہ تسلط پسند طاقتيں صدام کي باقيات اور متعصب تکفيري گروہوں کو استعمال کرکے عراق ميں امن و امان کو درہم برہم اور اس ملک کي ارضي سالميت کو نقصان پہنچانے کي کوشش کررہي ہيں
-
آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے فرمايا کہ عراق ميں فتنے کے اصل عناصر اس ملک کے مومن اور اپنے ملک کي آزادي کے حامي سنيوں کے بھي اتنے ہي دشمن ہيں جتنے وہ شيعيوں کے دشمن ہيں
-
قائد انقلاب اسلامي نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ خود عراقي عوام اور قيادت فتنے کي اس آگ پر قابو پانے اور اس کو نابود کرنے کي توانائي رکھتي ہے فرمايا کہ ہم عراق کے داخلي معاملات ميں امريکا اور ديگرملکوں کي مداخلت کے سخت خلاف ہيں اور اس کي حمايت نہيں کرتے کيونکہ ہم سمجھتے ہيں کہ عراقي حکومت، عوام اوربزرگ علمائے کرام اس فتنے کو مٹانے اور نابود کرنے کي توانائي رکھتے ہيں اور انشاء اللہ اس فتنے کو ختم کرکے رہيں گے.
.......
/169