ابنا: رپورٹ کے مطابق ویانا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے نئے دور کے مذاکرات کے موقع پر اسلامی جمہوریۂ ایران اور فرانس کے نمائندوں نے آج سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ایٹمی مسئلے کےبارے میں اپنے مذاکرات کا آغاز کیا۔ ایران کے مذاکراتی وفد کی قیادت ایران کے وزرائے خارجہ اور سینئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی اور مجید تخب روانچی کررہے ہيں ۔ فرانسیسی وفد کی قیادت اس ملک کے نئے نمائندے نیکولس دوریویر کررہے ہیں جو ژاک اودیبر کے جانشین ہیں ۔ سید عباس عراقچی نے ایران اور امریکہ کے دو روزہ مذاکرات کے بعد کل رات میں جنیوا میں کہا کہ مذاکرات سخت تھے لیکن مثبت ماحول میں انجام پائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اسلامی جمہوریۂ ایران اسی طرح ویانا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے نئے دور کے انعقاد سے قبل جرمنی کے ساتھ بھی تہران میں مذاکرات کریگا ۔ دوسری جانب امریکہ کے ایک ممتاز ایٹمی ماہر نے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کے مسئلے کا، ایران کے ایٹمی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز والش نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ، ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے ایٹمی مذاکرات کے دائرے میں محدود کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا ایران کے بیلسٹک میزائیل کا مسئلہ اصل مذاکرات سے مربوط نہيں ہے۔
.......
/169