7 جون 2014 - 16:08
مصر میں خواتین کا جنسی استحصال جاری

مصر میں خواتین کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔

ابنا: مصر میں خواتین کے جنسی استحصال کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا جس کے بعد سبکدوش ہونے والے نگران صدر عدلی منصور نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت جنسی ہراس کو ایسا جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سزا پانچ سال قید تک ہو سکتی ہے۔

ابھی تک مصر میں جنسی طور پر خواتین کو ہراساں کیے جانے جرم کی قانونی طور پر کوئی تعریف نہیں کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی طرف سے سنہ 2013 میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دس میں سے نو مصری خواتین کو کسی نہ کسی شکل میں جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

نئے قوانین کے تحت جنسی استحصال کرنے والوں کو چھ ماہ سے لے کر پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

صدارتی ترجمان ایحاب بداوی نے کہا کہ اس حکم نامے میں اس فرد کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والا بیان کیا گیا ہے جو جنسی طرز کی خواہش پوری کرنا چاہتا ہو۔

انھوں نے کہا کہ ایسا جرم دوسری بار کرنے والوں کی سزائیں دگنی کر دی جائیں گی۔

نئے قوانین کے تحت ملزمان کو قید کے علاوہ پانچ ہزار مصری پاؤنڈ تک کا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
.......

/169