ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق منامہ کے جنوب مشرق میں الجفیر کے علاقے میں " عالمی سمجھوتوں اور ملکی قوانین میں شہریت کا حق" کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد عمل میں لایا گيا ۔ اس سیمینار میں موجود وکلاء نے بحرین کے شہریوں کی شہریت منسوخ کۓ جانے کے آل خلیفہ کے فیصلے کو بحرین کے آئين اور عالمی قوانین کےمنافی قرار دیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریت کی منسوخی پر مبنی اپنا فیصلہ واپس لے۔
واضح رہے کہ بحرین کی وزارت داخلہ نے چھ نومبر دو ہزار بارہ کو اکتیس شہریوں کی شہریت منسوخ کردی تھی۔
بحرین کے ایک سیاسی رہنما حسین البحارنہ نے کہا ہے کہ آل خلیفہ نے بحرین کے لوگوں کی شہریت منسوخ کرنے کے علاوہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران سیاسی محرکات کی بناء پر بعض عرب اور ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو بحرین کی شہریت دی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ آل خلیفہ کا مقصد بحرین کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔ بحرین کے ایک اور وکیل محمد حسن العرادی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ پر دباؤ ڈالنے کے لۓ " ان کی شہریت ان کو واپس دو" کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور بہت سے افراد نے اس مہم کی حمایت بھی کی ہے لیکن ابھی تک آل خلیفہ کی حکومت نے ان اکتیس افراد کو شہریت واپس لوٹانے کے لۓ کوئي اقدام انجام نہیں دیا ہے۔ محمد حسن العرادی نے مزید کہا کہ بحرین کی وزارت داخلہ نے مقدمہ چلائے بغیر اور کسی قانونی دستاویز کے بغیر اکتیس افراد کی شہریت منسوخ کی ہے۔
.......
/169