ابنا: چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ ایشیا میں باہمی رابطے اور اعتماد سازی کےاقدامات کی کانفرنس (سیکا) کے رکن ممالک کے چوتھے سربراہی اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے آپس میں ملاقات اور علاقائي اور عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اس ملاقات میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاملے اور مسائل کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے کہا کہ عالمی قوانین کا نفاذ سب کے لۓ ہونا چاہۓ اور اگر ایران کےساتھ مذاکرات کرنے والے فریق مسائل کے حل کے سلسلے میں پر عزم ہوں تو ہمارے خیال کے مطابق آئندہ چند مہینوں کے دوران مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ مذاکرات میں ایران کے ایٹمی معاملے کا حل کیا جانا یقینی طور پر فریقین کے فائدے میں ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ آج شام ، عراق ، لبنان ، مصر اور لیبیا جیسے ممالک کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے کہاکہ ہمارے نزدیک خطےکے ممالک اور عالمی برادری کو دہشتگردی کے مقابلے کے لۓ آپس میں تعاون کرنا چاہۓ۔
بان کی مون نے بھی ڈاکٹر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا اور شام کے مسئلے کے سلسلے میں عالمی برادری کی تشویش میں شدت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لۓ ایران کے موثر کردار اور حمایت کا مطالبہ کیا۔
.......
/169