اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیغمبر اعظم (ص) انعامی مقابلے کے پہلے مرحلے کی بین الاقوامی کانفرنس کے آستانے میں منعقد ہوئی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل آیت اللہ اختری نے پیغمبر اسلام (ص) کے عظیم مقام و مرتبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: رسول اسلام (ص) کی بعثت، انسانی زندگی کے تمام ابعاد اور پہلووں منجملہ اخلاقی، عقیدتی، سیاسی اور اقتصادی پہلووں میں حیات نو کی حیثیت رکھتی ہے اوریہ بعثت رسول اسلام ہے جس نے انسان کو اس کی زندگی کا حقیقی مفہوم دیا ہے۔
انہوں نے مزید بیان کیا: پیغمبر اسلام(ص) انسانی سماج پر بہت بڑا حق رکھتے ہیں اور یہ حق نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام عالم انسانیت کی گردن پر پایا جاتا ہے اور وہ حق یہ ہے کہ آپ(ص) نے انسانی اقدار کو پہچنوایا۔
آیت اللہ اختری نے پیغمبر اسلام (ص) کے واسطے اللہ کی جانب سے ہدایت بشری کے لیے بھیجی گئی عظیم الشان کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلام کا انسان کے لیے سب سے زیادہ قیمتی تحفہ قرآن کریم ہے کہ ۱۴۰۰ سال سے کوئی دوسرا دین یا عقل بشری اس کے چلینج کا جواب نہیں دے سکی اسی قرآن کی جو سب سے پہلی آیات پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوئیں ان کا تعلق علم و دانش سے ہے جو اس چیز کو ثابت کرتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام(ص) کے نزدیک علم و دانش کی کس قدر اہمیت ہے۔
انہوں نےمزید کہا: اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) کی نگاہ میں علم کی وہ قیمت ہے جو کسی دین اور مکتب فکر میں نہیں ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج علمی دنیا میں پیغمبر اعظم (ص) جیسی شخصیت کو درکنار اور فراموشیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ اس وقت جو پیغمبر اسلام(ص) کو مختلف حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی شخصیت کو کما حقہ پہچنوایا نہیں گیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے کہا: اسمبلی کا پیغمبر اعظم (ص) انعامی مقابلے اور اس بین الاقوامی کانفرنس کو منعقد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی عظیم الشان شخصیت کو مختلف زاویوں سے دنیا والوں مخصوصا اہل یورپ و امریکہ کے سامنے پیش کیا جائے۔
پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی کانفرنس کے سربراہ نے مزید کہا: افسوس سے آج کا انسانی سماج ان تعلیمات سے بالکل بے بہرہ ہے جو پیغمبر اسلام (ص) انسانی سماج کی فلاح و بہبود کے لیے لے کر آئے تھے لہذا ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم موجودہ دور کے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر آپ (ص) کی شخصیت اور تعلیمات کو دنیا والوں کے لیے بیان کریں۔
انہوں نے کہا: اسی مقصد کے پیش نظر پیغمبر اعظم (ص) انعامی مقابلے کا عمل وجود میں لایا گیا اور اب اس مقابلے کے اختتام پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں حصہ لینے والوں کی قدردانی کی جائے گی اور اعلی درجات حاصل کرنے والوں کو انعامات سے نوازا جائے۔
انہوں نے اس مقابلے کے دوسرے مرحلے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مقابلے کا دوسرا مرحلہ پیغمبر اعظم(ص) اور قرآن کریم کے عنوان سے منعقد ہو گا۔
آیت اللہ اختری نے پیغمبر اعظم (ص) فیسٹیول کو موصولہ آثار و تخلیقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تا ھم ۸۹۸ آثار مختلف شعبہ جات میں فیسٹیول کو موصول ہوئے ہیں جن میں ۳۸ انگریزی زبان میں لکھی گئی کتابیں ہیں اور باقی ویڈیو کلیپس اور انیمیشنز وغیرہ ہیں۔
واضح رہے کہ پیغمبر اعظم (ص) انعامی مقابلے کے پہلے مرحلے کی بین الاقوامی کانفرنس بروز ہفتہ تہران میں ’’تالار مھر سورہ‘‘ میں افتتاح ہو گی اور تین دن تک جاری رہے گی۔ جبکہ سموار ’’عید مبعث‘‘ کے دن اختتام پذیر ہو گی اور مقابلے میں حصہ لینے والوں اور اعلی درجات حاصل کرنے والوں کو گراں قیمت انعامات سے نوازا جائے گا۔
.........
242