20 مئی 2014 - 11:04
پاکستانی طالبان، شریعت کے نفاذ کے لیے لڑائی جاری رہے گی

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سرگرم شدت پسند گروہ کالعدم تحریک طالبان کے دو دھڑوں کے درمیان مارچ سے لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں طرفین کے نوے دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔

ابنا: طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان اس خونریزی کے باوجود طالبان کے روپوش امیر ملاّ فضل اللہ المعروف ملاّ ریڈیو نے ایک ویڈیو فرمان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک میں شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، طالبان کے دھڑوں میں لڑائی کے پیش نظر طالبان کی قیادت نے فی الحال پاکستانی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات موخر کردیے ہیں۔

شورش زدہ جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کی کمان کے معاملے پر کمانڈر شہریار محسود اور کمانڈر خان سید سجنا کے حامیوں کے درمیان مارچ سے لڑائی جاری ہے۔

محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے شہریار محسود کے گروپ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں چونکہ ان کی اکثریت ہے، اس لیے انھیں ہی وہاں قیادت کا حق حاصل ہے لیکن ان کا مخالف سجنا گروپ ان کی عمل داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔

ملا فضل اللہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پڑوسی ملک افغانستان میں کہیں روپوش ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان جہاد اور شریعت کے نفاذ کے بہانے پاکستان کے شہروں اور قصبوں میں بم دھماکے اور حملے کرکے بے گناہ شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک کرتے رہے ہیں۔

.......

/169