اہل نیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا ۔ افغانستان کے مستحکم مستقبل اورسیکیورٹی سے متعلق شائع ہونیوالی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹااور صوبہ بلوچستان میں موجود دینی مدارس کے انتہا پسند عناصر افغانستان میں حملے کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیاگیاکہ پاکستان، افغانستان اور ہندوستان میں حملے کرنے والے ان انتہاپسندوں کیخلاف مناسب اقدامات نہیں کررہا ہے۔ کابل اوراسلام آباد کے درمیان شکوک وشبہات کی فضا برقرار ہے۔ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے دہشتگردی کے حوالے سے اپنی سالانہ رپورٹ میں الزام عائد کیاکہ جن پاکستانی تنظیموں کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دے رکھاہے وہ پاکستان میں بے حد آسانی سے اپنے نام بدل کر پابندیوں سے بچ نکلتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں پر پابندیاں لگانے کیلیے پاکستان نے کارروائی توکی ہے لیکن بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے ضبط کرنے کی مہم سست رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان دہشت گردی کیخلاف کئی نئے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن دہشت گردی اور دوسرے جرائم کیخلاف عدلیہ کی کارروائی انتہائی سست ہے۔رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات کیلیے بنی عدالتوں میں گواہوں، وکلا،ججوں اور پولیس کو شدت پسندوں کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے عدالت کی رفتار سست ہے اورمبینہ دہشت گرد اکثر بری ہو جاتے ہیں ۔رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو اب بھی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ حاصل ہے اور ان کیخلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کوئی خاص فوجی یاقانونی کارروائی نہیں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲