اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خطے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد قطر نے خطے سے باہر اپنے تعلقات کی بحالی کو اولین ترجیح قراردیا ہے۔ قطر کے وزیرخارجہ خالد عطیہ نے امریکہ کا دورہ کیا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر کرکے عرب ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا ازالہ کر سکیں۔
قطر کے وزیرخارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کا قطر دفاعی اور سلامتی سمیت تمام شعبوں میں واشنگٹن کے تعلقات میں فروغ کا خواہشمند ہے ۔امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے بھی کہا ہے کہ دوحہ اور واشنگٹن کے پہلے بھی اچھے تعلقات ہیں اور موجورہ دورے میں بھی شام،مصر اور خلیج فارس کے مسائل پر تعمیری مزاکرات ہوئے ہيں ۔
امریکی وزیرخارجہ کا مذید کہنا تھا کہ قطر کے وزیرخارجہ اپنے امیر کا خصوصی پیغام لے کر آئے تھے جس میں دہشتگردی کے خلاف نئے تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے ۔
قطر کے وزیرخارجہ نے ایک ایسے وقت امریکہ کا دورہ کیا ہے کہ مصر میں اخوان المسلمیں کی وجہ سے قطر کے سعودی عرب اور عرب امارات سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ سعودی عرب ،ابوظہبی منامنہ اور عرب امارات نے حال ہی میں مصر سے اپنے سفیر واپس بلا لئے ہیں۔ادھر مصر کی فوجی حمایت یافتہ حکومت نے قطر پر الزام لگایا ہے کہ دوحہ انکے ملک میں مخالفت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس تمام تر دباؤ کے باوجود قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اخوان المسلمیں کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی دھمکی اور تنبیہ کوخاطر میں نہیں لائے گا۔اسی سیاسی صورت حال کے پیش نظر قطر کے وزیر خارجہ نے بہت کم عرصے میں امارات،سوڈان ،تیونس امریکہ اور الجزائرکا دورہ کیا ہے۔قطر ان ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کا خواہشمند ہے ۔ قطر کے وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ امریکہ ایک طرف سعودی عرب کا دباؤ کم کرنے اور دوسری طرف علاقائی موضوعات بالخصوص شام کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر ہمآہنگی پیدا کرنا تھا کیونکہ امریکہ نے شام کے حوالے سے جو پینترا بدلا ہے اس پر سعودی عرب برہم ہے ۔سعودی عرب نے شام کے حوالے سے انتہائی متشدد پالیسی اپنا رکھی ہے جس پر امریکہ موجودہ حالات میں راضی نہیں ہے ۔امریکی صدر نے اپنے حالیہ دورے سعودی عرب میں سعودی حکمرانوں کو راضی کرنے کی کوشش کی ہے ادھر امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ قطر کو بھی اپنے ساتھ رکھے ۔امریکہ اپنے دونو ں دیرینہ موثر اور ثروتمند اتحادیوں کو مختلف طریقوں منجملہ اسلحے دیکر اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ تیل کی اربوں ڈالر کی درآمد سے خود کو محروم نہیں کرنا چاہتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲