اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ سی آئی اے اور این ایس اے کے اہلکار سینیٹ اور کانگریس میں آ کر جھوٹ بولتے ہیں اور غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، بل آف رائٹس ڈیفنس کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور امریکہ میں انسانی حقوق اور آزادیوں کیلئے قانونی دفاعی اٹارنی شاہد بٹر نے کہاکہ حال ہی میں شہریوں کی جاسوسی سے متعلق سی آئی اے نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی چیئرمین ڈایان کے سامنے جھوٹ بولا انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ عرصہ دراز سے چل رہا ہے جبکہ کئی چیزیں خفیہ تھیں جو اب سامنے آئی ہیں اور سی آئی اے کی کئی کارروائیوں کو ٹاپ لیول پر رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔ شاہد بٹر نے کہاکہ سینیٹر ڈایاں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ سی آئی اے اور دیگر ایجنسیاں تحقیقات میں رخنہ ڈالتی ہیں اور کئی چیزوں کو کور اَپ کرتی ہیں جو کہ سراسر بل آف رائٹس کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ میں یہ ایجنسیاں ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہیں اور بعض اوقات یہ آئین سے ماورا کام کر رہی ہوتی ہیں جن کو کوئی روکنے‘ ٹوکنے والا نہیں۔ شاہد بٹر نے کہاکہ حال ہی میں سینیٹ میں ایک بل فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے نام سے لایا جا رہا ہے جو کہ انسانی آزادیوں کے خلاف ہے ۔ اس موقع پر مدرلگیسنٹ پولیس کی خاتون رہنماء کولٹی ایل فلینگین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہامریکہ پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے پولیس کے محکمہ میں ایسے افراد بھرتی کئے ہوئے ہیں جو ذہنی علاج کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ پولیس اہلکار جس کے ہاتھ میں گن دی گئی ہے اس کا ڈرگ ٹیسٹ صرف زندگی میں ایک بار ہوتا ہے جب وہ نوکری پر لگتا ہے اس کے بعد اس کا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس نے میرے بیٹے کو ہلاک کیا مگر میں اب اس مشن پر ہوں کہ آئندہ کسی اور ماں کا بیٹا پولیس کے ہاتھوں اس طرح ہلاک نہ ہو.
.............
242