3 اپریل 2014 - 12:32
جناب مریم (س) پر سیدہ فاطمہ (س) کی افضلیت  محدثین کی نگاہ میں

سیدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور باوفا اصحاب رسول ص سلمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار یاسر(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا .

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
اس صحیح روایت کی مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں:
"یا فاطمة أَلا ترضین أنْ تکونی سیدة نساء العالمین و سیدة نساء هذه الامة و سیدة نساء المؤمنین؛ اے فاطمہ (س)! کیا آپ خوشنود نہیں ہونگی کہ دنیا کی خواتین کی سردار قرار پائیں اور اس امت کی خواتین کی سیدہ قرار پائیں اور با ایمان خواتین کی سیدہ قرار پائیں؟" (  المستدرک، ج3، ص156۔ )
حاکم اور ذہبی دونوں اس روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ یہ روایت حضرت حوّا ام البشر سے لے کر قیامت تک، دنیا کی تمام عورتوں پر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت کی واضح ترین اور گویا ترین دلیل ہے اور اس روایت نے ہر قسم کی نادرست تصورات کا امکان ختم کرکے رکھ دیا ہے۔
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سیدہ (س) سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں: "ألا ترضین أنّک سیدة نساء العالمین"؛ کیا آپ خوشنود نہیں ہیں آپ عالمین کی خواتین کی سردار ہیں؟"
سیدہ (س) نے عرض کیا: مریم (س) کا کیا ہوگا؟
فرمایا: "تلک سیدة نساء عالمها"؛(  محمد شوکانی، فتح القدیر، (بیروت: دار المعرفۃ، 1996م)، ج1، ص439۔ ) وہ اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں۔
عبداللہ ابن عباس نے ایک طویل حدیث میں رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: "ابنتی فاطمه فإنّها سیدة نساء العالمین مِن الأوّلین و الآخرین؛(  ابراهیم جوینی، فرائد السمطین، ج2، ص35۔ ) میری بیٹی فاطمہ (س)! بے شک اولین سے آخرین تک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں"۔
نیز ایک طولانی حدیث کے ضمن میں پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا: "... چوتھی مرتبہ خدا نے نظر ڈالی اور فاطمہ (س) کو پورے عالم کی خواتین پر پسندیدہ اور افضل قرار دیا۔ (  سلیمان قندوزی، ینابیع المودة، ص247، باب 56 )
ابن عباس پیغمبر خدا (ص) سے روایت کرتے ہیں: "اربع نسوة سیدات عالمهن۔ مریم بنت عمران، و آسیة بنت مزاحم، و خدیجة بنت خویلد، و فاطمة بنت محمد و افضلهن عالِما فاطمة؛( ـ الدر المنثور، ج2، ص194۔ ) چار خواتین اپنے زمانے کی دنیا کی سردار ہیں: مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم (زوجہ فرعون)، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد (ص)، اور ان کے درمیان سب سے زیادہ عالِم حضرت فاطمہ (س) ہیں"۔ نیز ابن عباس ہے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: "افضل العالمین مِن النساء الأولین و الآخرین فاطمة؛ (  المناقب المرتضویۃ، ص113، بحوالۂ غلامرضا کسائی، مناقب الزہراء، (قم: مطبعۃ مہر، 1398ه••• )، ص62۔ ) اولین اور آخرین کی خواتین میں سب سے افضل خاتون فاطمہ (س) ہیں"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲