اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کے انسانی حقوق اور جمہوریت کے مرکز کے مدیر، علی الیامی نے عربی چینل العالم کے ساتھ ایک گفتگو میں اظہار کیا:سعودی عرب نے شہزادہ مقرن بن عبد العزیز کو اس ملک کے ولی عھد کا جانشین مقرر کیا ہے اور اس فیصلے نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ تاج و تخت کی میراث کا سلسلہ صلح و صفائی کے ساتھ چلتا رہے گا ۔
اس نے مزید کہا:اس خبر کے اعلان کے باراک اوباما امریکہ کے صدر کے سعودی عرب کے دورے کے وقت ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب میں حکومت چلتی رہے گی اور سعودی عرب اور اس کی حکومت کو ثبات حاصل ہے ۔
الیامی نے آگے چل کر سعودی عرب کی حکو متی مشینری میں حالیہ تبدیلیوں کے دوسری نسل کے شاہزادوں پر منفی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا:سعودی عرب میں حاکم خاندان کی دوسری نسل،خاص کر موجودہ حالات میں، علاقے اور دنیائے عرب کے حوادث کے سائے میں سلطنت کے موروثی ہونے سے خشمگین ہوں گے۔اور یہ فیصلہ شاید دوسری اور پہلی نسل کے شاہزادوں کے درمیان مزید اختلافات اور نفرت پر منتہی ہو گا ۔
انہوں نے تصریح کی :دوسری نسل پہلی نسل سے مختلف ہے اور اکثر لوگ بھی جانتے ہیں کہ ان کے درمیان رقابت پائی جاتی ہے ۔اس لیے کہ ان کا زمانہ ان کے والدوں کے زمانے سے بہت مختلف ہے اب تک سعودی عرب میں خلافت ،آداب و رسوم اور تشریفات کی بنیاد پر بڑے بھائی کے پاس رہی ہے لیکن نئی نسل اپنے آباء سے مختلف ہے ۔
الیامی نے یاد دلایا:اس بنا پر شہزادہ مقرن کا سعودی عرب کے ولی عھد سلمان کا جانشین مقرر کیا جانا نسل اول و دوم اور حتی دوسری نسل کے فرزندوں کے درمیان اختلافات پیدا کرے گا:
اس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکہ کے لیےجب تک اس کے مفادات مل رہے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سعودی عرب پر کس کی حکومت ہو ،مزید کہا:سعودی عرب کا بادشاہ عبد اللہ بن عبد العزیز ،شہزادہ سلمان ولی عھد اور یہاں تک کہ خود شہزادہ مقرن کہ جو اس کا جا نشین ہے بوڑھے ،بھدے اور نامناسب جسمانی حالت رکھتے ہیں یہ سب بیمار ہیں اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے
.............
242